کھلے مین ہولز انسانی زندگیوں کیلیے سنگین خطرہ ہیں،طفیل ابڑو
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)چیف ایگزیکٹو آفیسر حیدرآبادواٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن طفیل احمد ابڑو نے کہا ہے کہ کھلے مین ہولز انسانی زندگیوں کے لئے سنگین خطرہ ہیں،ایسے حادثات کا سد باب کارپوریشن کی اولین ذمہ داری ہے،کراچی میں گٹر میں گر کر بچے کی ہلاکت ایک اندو ہناک سانحہ ہے،مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لئے اداروں کی فرض شناسی کے ساتھ ساتھ شہری شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز XENs سیوریج کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر تعلقہ سٹی ،قاسم آباد اور لطیف آباد کے XENs سیوریج اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔انہوں نے جملہ XENs کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر اپنے تعلقوں میں تفصیلی دورے کر کے مین ہولز کا جائزہ لیں اور جہاں بھی مین ہولز پر کور موجود نہیں یا بوسیدہ ہیں وہاں فی الفور نئے کورز کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے،اور کور کی تنصیب کے مختصر دورانیہ میں بھی مین ہولز کو حفاظتی رکاوٹوں کے ذریعہ نمایاں کر دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ڈھکن چوری ہونے یا ٹوٹنے پر 24 گھنٹوں کے اندر اس کی رپورٹ دفتر ہذا میں جمع کرائی جائے ۔انہوں نے متنبہ کیا کہ یہ انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے اس میں معمولی سی بھی کوتاہی ،غفلت یا لاپروائی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔فرائض سے غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔چیف ایگز یکٹو آفیسر نے اس ضمن میں شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بھی شہری شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کورز کی اپنی ذاتی ملکیت کی طرح حفاظت کریں اور ان کو نقصان پہنچانے والوں اور انہیں چوری کرنے والوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ مستقبل میں کوئی انسانی سانحہ رونما نہ ہو۔واضح رہے کہ کھلے مین ہولز کی فوری اطلاع میئر سیکر ٹریٹ ہیلپ لائن 1139 پر بھی کی جا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔