مرتضیٰ وہاب کراچی کی تباہی کی ذمے داری قبول کریں اور مستعفی ہوں ‘سیف الدین
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251209-01-16
کراچی (اسٹاف رپورٹر)نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے قابض میئر کی جانب سے مین ہول پر ڈھکن لگانے اور اسٹریٹ لائٹس کی درستگی کے لیے ہر یوسی کو ایک لاکھ روپے فنڈ دینے کے اعلان پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا 4 سالہ دور اقتدار شرمندگی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں،انہیں کراچی کی بربادی کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہیے،مرتضیٰ وہاب کے 2 سال ایڈمنسٹریٹرشپ ،2 سال مئیر شپ تباہی کی داستان ہے، ایک سال میں 24 بچے اور بڑے شہر کے مختلف علاقوں میں گٹر اور نالوں میں گر کر جاں بحق ہوچکے ہیں اب قابض میئر نے اپنے لال بجھکڑوں کے مشورے سے یہ حل تجویز کیا ہے،مرتضیٰ وہاب سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بیان بازی سے گریز کریں ،اچھل کود، 2 نمبری اور ناٹک کا دور گزر گیا عوام اب ان لوگوں کے کارناموں سے خوب واقف ہو چکے ہیں، ایک لاکھ کا اعلان اس سے قبل بھی ماہ جون کے کونسل اجلاس میں کیا گیا تھا لیکن 6 ماہ بعد بھی کوئی رقم یونین کمیٹیز کو منتقل نہ ہوسکی، یوسیز میں ہزاروں گٹر ہوتے ہیں 50 ڈھکن لگانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے پاس صرف اس کا 5ہزار 500 کروڑ روپے کا بجٹ ہے اور سندھ حکومت کا بجٹ 3500ارب کا ہے جبکہ واٹر کارپوریشن جس کے چیئر مین مرتضیٰ وہاب ہیں‘ نے 1.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔