میئر کراچی کا گٹر کے ڈھکن و اسٹریٹ لائٹس کیلئے ہر یو سی کو 1 لاکھ ماہانہ دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک : کراچی میں مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کی ٹوٹ پھوٹ کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گٹر کے ڈھکن اور اسٹریٹ لائٹس کیلئے ہر یوسی کو 1 لاکھ روپے ماہانہ دینے کا اعلان کردیا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ نئے نظام کے تحت ہر یونین کمیٹی کو پہلے ہی 5 لاکھ روپے دیے جاتے تھے، دی جانے والی رقم کا بنیادی مقصد گلی محلوں کے مسائل کو حل کرنا تھا۔نہوں نے کہا کہ شہر کی بہت سی یوسیز نے دی جانے والی اس رقم کا درست استعمال کیا ہے، متعدد علاقوں سے رقم ناکافی ہونے اور تنخواہوں میں خرچ ہونے کی شکایات موصول ہوئیں۔
ڈولفن سکواڈ کی کارروائی؛ 2مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد
میئر کراچی نے کہا کہ یہ معاملہ قیادت کے سامنے رکھا اور سندھ حکومت نے شیئر بڑھا کر 12 لاکھ روپے کیا ہے، یہ رقم روزمرہ مسائل کے حل کیلئے دی گئی، مگروہ نتائج حاصل نہ ہو سکے جن کی توقع تھی۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ نیپا سانحے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر یونین کمیٹی کو ہر ماہ ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
میئر کراچی نے مزید کہا کہ اب دی جانے والی رقم صرف گٹر کے ڈھکنوں اور اسٹریٹ لائٹس کیلئے فراہم کی جائے گی، یہ رقم دسمبر سے ہر یونین کمیٹی کو جاری کی جائے گی تاکہ مسائل کو موثر حل کیا جا سکے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسٹریٹ لائٹس کی میئر کراچی لاکھ روپے نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔