بھارت اور افغان سرزمین سے پاکستان مخالف اکاؤنٹس کی نشاندہی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:پاکستان میں سیکیورٹی اداروں نے بھارت اور افغان سرزمین سے چلنے والے درجنوں پاکستان مخالف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا انکشاف کیا ہے جو منظم طریقے سے نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلا رہے تھے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق متعدد ایکس اکاؤنٹس بھارتی اور افغان پراپیگنڈا نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جن کا مقصد پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دینا اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے بتایا کہ بھارت کی ریاستی سرپرستی والے اکاؤنٹس نے جعلی خبریں اور افواہیں پھیلا کر پاکستانی عوام میں خوف اور بے اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی،پاکستان مخالف نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کو روکا جانا ضروری ہے تاکہ ملک میں امن و استحکام اور عوام کے اعتماد کو محفوظ رکھا جا سکے۔
افغان طالبان کے نام سے چلنے والے جعلی اکاؤنٹس بھی پاکستان مخالف پراپیگنڈا میں سرگرم رہے اور سوشل میڈیا پر جھوٹ اور مبالغہ آمیز معلومات کے ذریعے عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی گئی، فتنہ الہندوستان کے نام سے چلنے والے بھارتی اکاؤنٹس خاص طور پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد نشر کرنے میں سرگرم رہے۔
سیکیورٹی اداروں نے تصدیق کی کہ یہ اکاؤنٹس نہ صرف پاکستان کے عوام کے جذبات کو متاثر کرنے کے لیے سرگرم تھے بلکہ ان کا مقصد ملک میں سیاسی اور سماجی انتشار پیدا کرنا بھی تھا۔ اس ضمن میں کئی اکاؤنٹس کو فوری طور پر شناخت کرکے کارروائی کے لیے متعلقہ محکموں کو رپورٹ کیا جا چکا ہے۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بیرونی اثرورسوخ اور پراپیگنڈا کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان مخالف
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان