ڈیجیٹل ہراسانی کےحوالے سے خواتین کےلیےموبائل ایپلیکیشن بنائی گئی ہے، وزیرقانون
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام صنفی بنیاد پر تشدد کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خواتین کی ہراسانی خصوصاً ڈیجیٹل بدسلوکی ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہے، اور ہم متاثرہ خواتین کی اصل مشکلات کا مکمل اندازہ نہیں لگا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنایا ہے، لیکن اسی نے ہراسانی کے نئے راستے بھی کھول دیے ہیں جن کا نشانہ سب سے زیادہ خواتین بنتی ہیں۔
وزیر قانون نے بتایا کہ پاکستان نے ہراسانی کے مسئلے پر پہلے کے مقابلے میں بہتر کنٹرول حاصل کیا ہے، تاہم عدالتی سطح پر ملزمان کو سزا دلوانے کی شرح ابھی تک تسلی بخش نہیں ہے ، اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب واضح ثبوت موجود ہونے کے باوجود ’’شک کا فائدہ‘‘ ملزمان کو مل جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ہراسانی کے خلاف پاکستان نے خصوصی موبائل ایپلیکیشن متعارف کرائی ہے تاکہ متاثرہ خواتین فوری قانونی مدد حاصل کر سکیں، اور یہ کہ ریاست ان کے لیے تمام قانونی راستے فراہم کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہراسانی کے
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔