سوشل میڈیا پر خاتون کے بال کاٹنے کی وائرل ویڈیو کے حوالے سے درج مقدمے میں راولپنڈی پولیس نے اہم پیشرفت کرتے ہوئے 3 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار ملزمان میں واقعے میں براہ راست ملوث ایک مرد اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ واقعے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں تھانہ نصیر آباد میں درج کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: تشدد اور بال کاٹنے کی وائرل ویڈیو، متاثرہ لڑکی کا بیان سامنے آگیا

متاثرہ خاتون کا ویڈیو بیان سامنے آنے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا، جبکہ یہ واقعہ تقریباً ایک ماہ قبل پیش آیا تھا لیکن اس وقت پولیس کو رپورٹ نہیں کیا گیا تھا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق وائرل ویڈیو کے بعد مرکزی ملزمان فرار ہو گئے تھے، تاہم راولپنڈی پولیس نے تمام ٹیکنیکل اور انسانی انٹیلی جنس ذرائع استعمال کرتے ہوئے انہیں ٹریس کر کے گرفتار کیا۔

یہ بھی پڑھیے: مساج سیلون میں خاتون کے بال کاٹنے کا واقعہ، ملزمان گرفتار

سی پی او سید خالد ہمدانی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے دیگر ساتھیوں اور سہولت کاروں کو بھی جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ترجمان راولپنڈی پولیس نے مزید بتایا کہ مقدمے کی کارروائی جاری ہے اور متاثرہ خاتون کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خاتون راولپنڈی پولیس گرفتاری ملزم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خاتون راولپنڈی پولیس گرفتاری راولپنڈی پولیس بال کاٹنے پولیس نے

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار