اسلام آباد: شاہراہ دستور پر گاڑی کی اسکوٹی کو ٹکر، 2 خواتین جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اسلام آباد: سیکرٹریٹ چوک شاہراہ دستور پر گاڑی کی اسکوٹی کو ٹکر سے 2 خواتین جاں بحق ہوگئیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق حادثے میں جاں بحق خواتین کی شناخت ثمرین اور تابندہ کے نام سے ہوئی جب کہ واقعے کا مقدمہ جاں بحق لڑکی ثمرین کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن میں خاتون کے بھائی نے مؤقف اپنایا کہ میری بہن اپنی دوست کے ہمراہ گھر واپس آرہی تھی، بہن کے نمبر سے کال آنے پر پتا چلا کہ اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیاہے اور اسپتال میں ہے، اسپتال جاکر دیکھا تو میری بہن اور اس کی دوست جاں بحق ہوچکی تھی۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہےکہ گرفتار ڈرائیور کے والد کا تعلق عدلیہ سے ہے، گاڑی کے ڈرائیور کی جانب سے شناختی کارڈ اور لائسنس پیش نہیں کیا جاسکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔