Juraat:
2026-07-24@01:40:39 GMT

بھارتی مسلمانوں کا سماجی و اقتصادی بائیکاٹ

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

بھارتی مسلمانوں کا سماجی و اقتصادی بائیکاٹ

ریاض احمدچودھری

مودی کے بھارت میں مسلمانوں کا معاشی قتل جاری ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندوتوا سوچ پورے معاشرے میں زہر اگل رہی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہونے کے بعد اب انتہاپسند ہندوؤں کی جانب سے معاشی بائیکاٹ کا نیا حربہ سامنے آیا ہے۔عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے انتہاپسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں کے اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ کا عمل جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلمان دکانداروں اور ہوٹل مالکان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ ہندوؤں کے ذہن میں یہ شک پیدا کیا جا رہا ہے کہ مسلمان دکاندار کھانوں میں گائے کے گوشت، تھوک اور علاظت کی ملاوٹ کرتے ہیں۔ اس منفی پروپیگنڈے کے بعد مقامی ہندو تنظیموں اور سیاست دانوں کی جانب سے مسلمانوں کو دکانیں کرائے پر نہ دینے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ اس گھٹیا پروپیگنڈے کے ذریعے مسلمانوں سے ان کا ذریعہ معاش چھین کر انہیں دربدر کیا جا رہا ہے۔ یہ معاشی بائیکاٹ مہم اترا کھنڈ، مدھیہ پردیش، راجھستان اور اتر پردیش جیسے بڑے بھارتی ریاستوں میں پھیل چکی ہے۔ اس مہم کے دوران مسلمانوں کے کاروبار، خصوصاً ہوٹلوں اور دکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں انتہاپسند ہندوؤں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مسلمان تاجروں کو دکانیں کرائے پر نہ دی جائیں۔اس حوالے سے ایک ہوٹل مالک وسیم احمد کا کہنا ہے کہ اس پروپیگنڈے نے میرے ہوٹل کو ویران کردیا جو پہلے گاہکوں سے بھرا ہوتا تھا۔گاہکوں کی کمی اور کاروبار میں نقصان کے باعث مجھے اپنا ہوٹل بند کرنا پڑا۔اترپردیش میں ایک منظم سازش کے تحت حکم جاری کیا گیا کہ دکانیں باقاعدہ نام کے ساتھ کھولی جائیں۔اس مہم کا مقصد ہندؤوں کو مسلمانوں کی دکانوں سے کچھ نہ خریدنے پر قائل کرنا تھا۔
مسلمانوں کیخلاف اس معاشی بائیکاٹ مہم میں ہندو مذہبی رہنماء بھی ملوث ہیں۔ہندو مذہبی رہنماء سوامی یشویت مہاراج نے اس مہم کی پر زور حمایت کی۔ یہ سلسلہ بھارت کی اترا کھنڈ، مدھیہ پردیش، راجھستان اور اتر پردیش جیسی ریاستوں تک پھیلا ہوا ہے۔ان ریاستوں میں چھوٹے دکانداروں اور سبزی فروشوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اتر پردیش میں بے شمار ذبح خانے غیر قانونی قرار دے کر بند کر دیے گئے ہیں۔مودی حکومت کے اقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کے ذریعہ معاش پر حملہ کیا گیا۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق پر واویلا کرنے والی تنظیموں کو بھارت میں مسلمانوں کیخلاف اس معاشی بائیکاٹ پر آواز اٹھانا چاہئے۔ اتر پردیش میں مسلمانوں کی ملکیت والے ذبح خانوں کو غیر قانونی قرار دے کر بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث مسلمانوں کے ذریعہ معاش پر حملہ کیا گیا ہے۔ حاجی یوسف قریشی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی روزگار کے ذرائع کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ادیتا ناتھ اور مودی کی جوڑی نے مسلمانوں میں ایک ایسے عدم تحفظ کو جنم دیا ہے جس کی کوئی اور مثال ہندوستان کی حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس جوڑی نے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ان کے اقتدار میں چند رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ گزشتہ برس عید سے چند دن پہلے ایک 15 سالہ لڑکا اپنے اور دو دوستوں کے ساتھ دہلی سے عید کی خریداری کر کے ماتھورا میں واقع اپنے گھر بذریعہ ٹرین واپس جا رہا تھا۔ ان سب ساتھیوں کا حلیہ ان کے مسلمان ہونے پر دلالت کر رہا تھا۔ سیٹ پر بیٹھنے کے مسئلے پر ڈبہ میں سوار ایک گروہ سے کچھ تکرار ہوئی جو وقفے وقفے سے جاری رہی لیکن زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ یہ مذہبی رنگ اختیار کر گئی۔ اس گروہ نے جنید کی ٹوپی، مسلمان ہونے اور گائے کاگوشت کھانے کے طعنے دیئے اور پھر یہ سارا معاملہ زبردست حملے کی شکل اختیار کر گیا۔ اس گروہ کے لوگ جو جنید اور اس کے بھائی اور دوستوں سے عمر میں بڑے تھے’ جلد ہی چاقو نکال لئے اور جید کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔ ایک شہری کا اس قدر سفاکانہ اور بہیمانہ قتل بھارت کی جمہوریت اور اس کے سیکولر آئین پر اک بدنما داغ ہے۔ مرکزی یا ریاستی حکومت کے کسی ذمہ دار نے اس واقعہ کی مذمت میں کوئی بیان نہیں دیا اور یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا۔دو سال پہلے دہلی کے قریب ایک اور واقعہ میں ایک 50 سالہ مسلمان عبدالخالق کو یہ افواہ پھیلا کر کہ اس کے گھر میں گائے کا گوشت کھایا جا رہا ہے قتل کر دیا گیا۔ راجستھان میں ایک اور واقعہ میں جہاں ایک مسلمان بدقسمتی سے گائیں منڈی لے کر جا رہا تھا ایک ناکردہ گناہ میں بلوائیوں نے بے رحمانہ طریقے سے موقع پر ہلاک کر دیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جون میں۔ اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اب تک 10 مسلمانوں کو گاؤ رکھشا کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے موقع پر ہو رہا جب ہندو اکثریت والے ملک میں مسلمان اقلیت کے خلاف اسلام فوبیا پھیلایا جا رہا ہے۔
گائے ذبح کرنے کے جرم میں عمر قید کے التزام کے قانون کے تحت گجرات میں پہلا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم کو دس سال کی سزا دی گئی اور ایک لاکھ کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ گائے اور گائے کی نسل کے جانوروں کو مارنے پر عمر قید کے التزام والے قانون (گجرات اینیمل پروٹیکشن (ترمیمی) قانون) 2017 کے تحت ریاست کی کسی عدالت کے ذریعہ دیئے گئے فیصلے کے تحت راجکوٹ ضلع کے دھوراجی کی ایک عدالت نے ایک شخص کو دس سال کی سزا اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔استغاثہ کے مطابق سلیم چادر نام کے ملزم نے گائے کا ایک بچھڑا لیا تھا اور بعد میں اس کے قتل کرنے کے بعد بریانی بنا کر اس نے اپنی بیٹی کے گھر آئے مہمانوں کو دعوت دی تھی۔ اس معاملے میں سپتا مجھوٹی نامی شخص نے معاملہ درج کرایا تھا۔ جانچ کے دوران الزام کو سچ قرار دیا گیا تھا۔ لیباریٹری میں جانچ میں بچھڑنے کے قتل کی بات ثابت ہوگئی تھی۔عدالت نے سلیم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے یہ سزاسنائی۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: معاشی بائیکاٹ کیا جا رہا ہے مسلمانوں کی مسلمانوں کے اتر پردیش میں ایک کیا گیا کر دیا کے تحت

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت