امریکہ سے
۔۔۔۔۔۔
جاوید محمود
باراک حسین اوباما جب امریکہ کے 44صدر بنے تو امریکہ کے بڑے حلقوں میں کہرام مچ گیا کہ ایک مسلمان امریکہ کا صدر بن گیا ۔ اب زہران ممدانی نے نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے کے ساتھ ساتھ ایک صدی میں کم عمر ترین میئر بن کر تاریخ رقم کی ہے۔ واضح رہے نیویارک کو امریکہ کا منی امریکہ کہا جاتا ہے۔ زہران ممدانی کے میئربننے کے بعد امریکہ کے بڑے حلقوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 9/11کے واقعے کے بعد مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی وبا پھیل گئی تھی جس کے اثرات آج تک ہیں۔ ایسے حالات میں زہران ممدانی کا نیو یارک کا میئر بننا کسی معجزے سے کم نہیں۔ نیویارک کی ریاستی اسمبلی کے 34سالہ رکن ممدانی نے سال کا آغاز ایک غیر معروف امیدوار کے طور پر کیا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب سے اوپر پہنچ گئے۔ ان کا انتخاب ترقی پسندوں کے لیے اس بدلاؤ کی نشاندہی کرتا ہے جو شہر کی سیاست کے مرکز میں تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن سے قبل ووٹرز پر زور دیا کہ وہ ممدانی کو منتخب نہ کریں اور ان کے دیرینہ ناقدین میں سے ایک سابق گورنراینڈریو کومو کی حمایت کریں جو ڈیموکریٹک پرائمری میں شکست کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب میں شریک تھے۔ الیکشن سے ایک دن قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ چاہے آپ ذاتی طور پر اینڈریو کومو کو پسند کریں یا نہ کریں آپ کے پاس واقعی کوئی چارہ نہیں ہے، آپ کو انہیں ووٹ دینا چاہیے اور امید کرنی چاہیے کہ وہ شاندار کام کریں گے وہ اس کی صلاحیت رکھتے ہیں جوممدانی میں نہیں ہے ۔زہران اپنے خاندان کے ساتھ جنوبی افریقہ کے شہر کیمپ ٹاؤن میں بھی رہے ہیں لیکن جب وہ سات سال کے تھے تو خاندان کے ساتھ نیویارک آ گئے۔ انہوں نے نیویارک کے علاقے بروکلین میں پرورش پائی جو کہ ایک ملازمت پیشہ آبادی کا علاقہ ہے اور ثقافتی تنو ع سے بھرپور ہے۔ انہوں نے افریقانہ اسٹڈیز میں گریجویشن کیا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد زہران نے بطور فورکلوزر پریونییشن کونسلر کام کیا جس کا مطلب ایک ایسا مشیر ہے جو غریب خاندانوں کو گھروں سے قرض کی وجہ سے جبری بے دخلی سے بچانے میں مدد دیتا ہے اور جس کا اثر ان کے عوام کی فلاح و بہبود پر مبنی سیاست پر واضح ظاہر ہے۔
میئر کے الیکشن کے لیے ان کی مہم میں نیویارک کے عام لوگوں نے کافی دلچسپی دکھائی کیونکہ انہوں نے ایسے مسائل اٹھائے ہیں جو کہ نیویارک جیسے مہنگے شہر کے عام لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مسلم عقیدے کو بھی اپنی انتخابی مہم کا ایک نمایاں حصہ بنایا اور جہاں باقاعدگی سے مساجد کا دورہ کیا، وہیں شہر کے اخراجات کے بحران کے بارے میں اردو میں ایک ویڈیو بھی جاری کی۔ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ہم جانتے ہیں کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے عوام میں کھڑے ہونا اس تحفظ کی قربانی دیتا بھی ہے جو ہمیں کبھی کبھی سامنے نہ آ کر مل سکتا ہے ۔شہر کے جیکسن ہائٹس جیسے محلوں میں جہاں جنوبی اشیائی لاطینی امریکی اور مشرقی ایشیائی کمیونٹیز آباد ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق ان کی مہم ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکی تھی ان کے لیے کام کرنے والے رضاکار انگریزی کے علاوہ ہندی اردو بنگلہ اورہسپانوی زبانوں میں گھر گھر جا کر ان کی حمایت میں مہم چلا رہے تھے ،ان کی انتخابی مہم کا دعوی ہے انہوں نے نیویارک شہر کی تاریخ کے سب سے بڑا فیلڈ آپریشن کیا ہے جو تقریبا 40 ہزار رضاکاروں پر مشتمل تھا اور 10لاکھ سے زیادہ گھروں تک پہنچے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر نیویارک کے شہری کمیونسٹ کو منتخب کرتے ہیں تووفاقی فنڈز روک دیے جائیں گے۔
ممدانی انتخاب جیتنے کے بعد اسٹیج پر آئے تو انہوں نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تھا میرے پاس آپ کے لیے صرف تین الفاظ ہیں ٹی وی کا والیوم بڑھا لیجئے۔ مگر دنیا بھر کی ٹی وی اسکرینوں نے ایک مختلف منظر دیکھا۔ ٹرمپ نے نیویارک کے نو منتخب میئر ممدانی سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ایک ایسی ملاقات جسے سال کا سب سے بڑا سیاسی ٹاکرا سمجھا جا رہا تھا مگر یہ توقعات کے برعکس رہی۔ بعض مبصرین نے تو اسے ایک قسم کی تعریفی محفل سے تشبیہ دی، خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ کہنے والے ممدانی نے جیتنے کے بعد اپنی تقریر میں ٹرمپ کو فاشسٹ یعنی آمرانہ خیالات کا حامل کہا تھا اور ملاقات سے قبل صدر کے ترجمان نے ان کے دورے کو کمیونسٹ کا وائٹ ہاؤس وزٹ قرار دیا تھا لیکن اوول افس میں جب ٹرمپ اور ممدانی آمنے سامنے آئے تو دونوں کا لہجہ حیران کن طور پر شائستہ اور مصلحت آمیز تھا۔ بار بار دونوں رہنماؤں نے نیویارک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور رہائشیوں کے بحران کو حل کرنے میں اپنی مشترکہ دلچسپی پر زور دیا ۔وہ مسکرا رہے تھے حتی کہ ٹرمپ اس وقت بھی خوشگوار موڈ میں دکھائے دیے۔ جب صحافیوں نے ان سے ممدانی کی جانب سے ان پر کی گئی تنقید کے حوالے سے سوال کیے۔ صدر نے کہا ہم ان کی مدد کرنے والے ہیں اور یہ بھی کہا کہ ہمارا بہت سی باتوں پر اتفاق ہے ،اتنا تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اس ملاقات کے ماحول نے سیاسی مبصرین کو حیران کرنے کے علاوہ یہ واضح پیغام دیا کہ دونوں رہنما سمجھتے ہیں کہ مہنگائی اور ہاؤسنگ بحران سے نمٹنا ان کی سیاسی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یکم جنوری کو ممدانی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی دونوں کے لہجے کی یہ نرمی برقرار رہتی ہے یا نہیں ۔ممدانی اور ٹرمپ میں ایک چیز مشترک ہے۔ دونوں کا تعلق نیویارک سے ہے اور دونوں نے کوئنزضلع کو اپنا گھر کہا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ممدانی جن مسائل کے حل کرنے پر توجہ دے رہے ہیں ان مسائل کی وجہ سے بڑی تعداد میں نیویارکر نیویارک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ ممدانی اپنے انداز بیان سے ووٹرز کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں ۔اگر وہ نیویارک کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ہیرو بن کراُبھریں گے اور سیاست کی دوڑ میں بہت آگے جائیں گے۔
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: نے نیویارک نیویارک کے انہوں نے کے بعد کے لیے ہے اور
پڑھیں:
انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہونے
والے بینک اکاؤنٹس بند کرے۔
ٹرمپ نے 2 جون کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حکم ان بینکوں، کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدف بناتا ہے جن کے ذریعے مجرم
عناصر انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، غیر قانونی امیگریشن اور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ رقوم منتقل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی دھوکے باز ہر سال امریکی ٹیکس دہندگان سے اربوں ڈالر لوٹ لیتے ہیں۔
ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہوں یا جن میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو دی جانے والی سرکاری امداد رکھی جا
رہی ہو، انہیں بند، ضبط یا بحقِ سرکار تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔
President Trump announced that he has signed a new Executive Order aimed at cracking down on financial fraud and illegal immigration.
The order directs the Treasury Department to restrict banks, credit cards, and financial institutions from being used to support human smuggling,… pic.twitter.com/01rOIAWCxI
— Open Source Intel (@Osint613) June 2, 2026
صدر ٹرمپ کے مطابق وہ بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کو سہولت فراہم کرنے یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی فلاحی امداد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا سے باہر جانے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔
محکمۂ خزانہ کی کارروائیاںوائٹ ہاؤس اور محکمۂ خزانہ کے مطابق جرائم پیشہ تنظیمیں امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی رقوم منتقل کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ نئے حکم نامے کا مقصد بینکنگ سطح پر
ان نیٹ ورکس کی رسائی ختم کرنا ہے۔
اسی تناظر میں مارچ 2026 میں محکمۂ خزانہ نے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع
حکام کا الزام تھا کہ منشیات فروش فینٹانائل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے اور پھر یہ رقوم کارٹیل کے آپریٹرز تک پہنچائی جاتیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مارچ 2026 میں کہا تھا کہ محکمۂ خزانہ دہشتگرد کارٹیلز اور ان کے فینٹانائل اسمگلنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بناتا رہے گا۔
مسئلے کا حجمامریکی حکام کے مطابق مسئلہ کافی وسیع ہے۔ محکمۂ خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس مبینہ طور پر 312 ارب ڈالر سے زائد رقوم
امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کر چکے ہیں۔
حکام نے مالیاتی نظام کو مزدوروں کی اسمگلنگ سے بھی جوڑا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر بچوں کی جنس تبدیلی کے علاج پر پابندی لگا دی
اپریل 2025 میں امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای نے ریاست اوہائیو میں ایک مبینہ 126 ملین ڈالر مالیت کے غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ
آپریشن سے منسلک اثاثے ضبط کیے تھے۔
آئی سی ای کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 40 فرضی کمپنیوں کے ذریعے غیر دستاویزی کارکنوں کو ملازمت اور رہائش فراہم کی، جن میں سے بہت سے افراد میکسیکو کے راستے امریکا
اسمگل کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس دوران لاکھوں ڈالر بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور لگژری اشیا کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمگلنگ نیٹ ورکس امیگریشن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایگزیکٹو آرڈر دہشتگرد ریاست اوہائیو صدر ٹرمپ فینٹانائل کریڈٹ کارڈ محکمہ خزانہ منی لانڈرنگ وائٹ ہاؤس