Juraat:
2026-07-24@00:59:45 GMT

بہت آگے جائیں گے!

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

بہت آگے جائیں گے!

امریکہ سے
۔۔۔۔۔۔
جاوید محمود

باراک حسین اوباما جب امریکہ کے 44صدر بنے تو امریکہ کے بڑے حلقوں میں کہرام مچ گیا کہ ایک مسلمان امریکہ کا صدر بن گیا ۔ اب زہران ممدانی نے نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے کے ساتھ ساتھ ایک صدی میں کم عمر ترین میئر بن کر تاریخ رقم کی ہے۔ واضح رہے نیویارک کو امریکہ کا منی امریکہ کہا جاتا ہے۔ زہران ممدانی کے میئربننے کے بعد امریکہ کے بڑے حلقوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 9/11کے واقعے کے بعد مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی وبا پھیل گئی تھی جس کے اثرات آج تک ہیں۔ ایسے حالات میں زہران ممدانی کا نیو یارک کا میئر بننا کسی معجزے سے کم نہیں۔ نیویارک کی ریاستی اسمبلی کے 34سالہ رکن ممدانی نے سال کا آغاز ایک غیر معروف امیدوار کے طور پر کیا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب سے اوپر پہنچ گئے۔ ان کا انتخاب ترقی پسندوں کے لیے اس بدلاؤ کی نشاندہی کرتا ہے جو شہر کی سیاست کے مرکز میں تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے۔ صدرڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن سے قبل ووٹرز پر زور دیا کہ وہ ممدانی کو منتخب نہ کریں اور ان کے دیرینہ ناقدین میں سے ایک سابق گورنراینڈریو کومو کی حمایت کریں جو ڈیموکریٹک پرائمری میں شکست کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب میں شریک تھے۔ الیکشن سے ایک دن قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ چاہے آپ ذاتی طور پر اینڈریو کومو کو پسند کریں یا نہ کریں آپ کے پاس واقعی کوئی چارہ نہیں ہے، آپ کو انہیں ووٹ دینا چاہیے اور امید کرنی چاہیے کہ وہ شاندار کام کریں گے وہ اس کی صلاحیت رکھتے ہیں جوممدانی میں نہیں ہے ۔زہران اپنے خاندان کے ساتھ جنوبی افریقہ کے شہر کیمپ ٹاؤن میں بھی رہے ہیں لیکن جب وہ سات سال کے تھے تو خاندان کے ساتھ نیویارک آ گئے۔ انہوں نے نیویارک کے علاقے بروکلین میں پرورش پائی جو کہ ایک ملازمت پیشہ آبادی کا علاقہ ہے اور ثقافتی تنو ع سے بھرپور ہے۔ انہوں نے افریقانہ اسٹڈیز میں گریجویشن کیا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد زہران نے بطور فورکلوزر پریونییشن کونسلر کام کیا جس کا مطلب ایک ایسا مشیر ہے جو غریب خاندانوں کو گھروں سے قرض کی وجہ سے جبری بے دخلی سے بچانے میں مدد دیتا ہے اور جس کا اثر ان کے عوام کی فلاح و بہبود پر مبنی سیاست پر واضح ظاہر ہے۔
میئر کے الیکشن کے لیے ان کی مہم میں نیویارک کے عام لوگوں نے کافی دلچسپی دکھائی کیونکہ انہوں نے ایسے مسائل اٹھائے ہیں جو کہ نیویارک جیسے مہنگے شہر کے عام لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مسلم عقیدے کو بھی اپنی انتخابی مہم کا ایک نمایاں حصہ بنایا اور جہاں باقاعدگی سے مساجد کا دورہ کیا، وہیں شہر کے اخراجات کے بحران کے بارے میں اردو میں ایک ویڈیو بھی جاری کی۔ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ہم جانتے ہیں کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے عوام میں کھڑے ہونا اس تحفظ کی قربانی دیتا بھی ہے جو ہمیں کبھی کبھی سامنے نہ آ کر مل سکتا ہے ۔شہر کے جیکسن ہائٹس جیسے محلوں میں جہاں جنوبی اشیائی لاطینی امریکی اور مشرقی ایشیائی کمیونٹیز آباد ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق ان کی مہم ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکی تھی ان کے لیے کام کرنے والے رضاکار انگریزی کے علاوہ ہندی اردو بنگلہ اورہسپانوی زبانوں میں گھر گھر جا کر ان کی حمایت میں مہم چلا رہے تھے ،ان کی انتخابی مہم کا دعوی ہے انہوں نے نیویارک شہر کی تاریخ کے سب سے بڑا فیلڈ آپریشن کیا ہے جو تقریبا 40 ہزار رضاکاروں پر مشتمل تھا اور 10لاکھ سے زیادہ گھروں تک پہنچے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر نیویارک کے شہری کمیونسٹ کو منتخب کرتے ہیں تووفاقی فنڈز روک دیے جائیں گے۔
ممدانی انتخاب جیتنے کے بعد اسٹیج پر آئے تو انہوں نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تھا میرے پاس آپ کے لیے صرف تین الفاظ ہیں ٹی وی کا والیوم بڑھا لیجئے۔ مگر دنیا بھر کی ٹی وی اسکرینوں نے ایک مختلف منظر دیکھا۔ ٹرمپ نے نیویارک کے نو منتخب میئر ممدانی سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ایک ایسی ملاقات جسے سال کا سب سے بڑا سیاسی ٹاکرا سمجھا جا رہا تھا مگر یہ توقعات کے برعکس رہی۔ بعض مبصرین نے تو اسے ایک قسم کی تعریفی محفل سے تشبیہ دی، خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ کہنے والے ممدانی نے جیتنے کے بعد اپنی تقریر میں ٹرمپ کو فاشسٹ یعنی آمرانہ خیالات کا حامل کہا تھا اور ملاقات سے قبل صدر کے ترجمان نے ان کے دورے کو کمیونسٹ کا وائٹ ہاؤس وزٹ قرار دیا تھا لیکن اوول افس میں جب ٹرمپ اور ممدانی آمنے سامنے آئے تو دونوں کا لہجہ حیران کن طور پر شائستہ اور مصلحت آمیز تھا۔ بار بار دونوں رہنماؤں نے نیویارک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور رہائشیوں کے بحران کو حل کرنے میں اپنی مشترکہ دلچسپی پر زور دیا ۔وہ مسکرا رہے تھے حتی کہ ٹرمپ اس وقت بھی خوشگوار موڈ میں دکھائے دیے۔ جب صحافیوں نے ان سے ممدانی کی جانب سے ان پر کی گئی تنقید کے حوالے سے سوال کیے۔ صدر نے کہا ہم ان کی مدد کرنے والے ہیں اور یہ بھی کہا کہ ہمارا بہت سی باتوں پر اتفاق ہے ،اتنا تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اس ملاقات کے ماحول نے سیاسی مبصرین کو حیران کرنے کے علاوہ یہ واضح پیغام دیا کہ دونوں رہنما سمجھتے ہیں کہ مہنگائی اور ہاؤسنگ بحران سے نمٹنا ان کی سیاسی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یکم جنوری کو ممدانی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی دونوں کے لہجے کی یہ نرمی برقرار رہتی ہے یا نہیں ۔ممدانی اور ٹرمپ میں ایک چیز مشترک ہے۔ دونوں کا تعلق نیویارک سے ہے اور دونوں نے کوئنزضلع کو اپنا گھر کہا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ممدانی جن مسائل کے حل کرنے پر توجہ دے رہے ہیں ان مسائل کی وجہ سے بڑی تعداد میں نیویارکر نیویارک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ ممدانی اپنے انداز بیان سے ووٹرز کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں ۔اگر وہ نیویارک کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ہیرو بن کراُبھریں گے اور سیاست کی دوڑ میں بہت آگے جائیں گے۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: نے نیویارک نیویارک کے انہوں نے کے بعد کے لیے ہے اور

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل