حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر کالے بلدیاتی قانون کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251208-11-18
لاہور (نمائندہ جسارت ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پر لاہور سمیت فیصل آباد، جھنگ، سیالکوٹ، اوکاڑہ، ساہیوال، قصور، شیخوپورہ، حافظ آباد، وزیر آباد، ننکانہ، گوجرانوالہ، چنیوٹ، نارووال اور پاکپتن میں پنجاب حکومت کے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ صوبے بھر میں نکالی جانے والی ان ریلیوں اور احتجاجی اجتماعات کی قیادت جماعت اسلامی کے مرکزی، صوبائی، ضلعی اور مقامی رہنماؤں نے کی، جن میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔شرکاء نے ہاتھوں میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے متعارف کردہ بلدیاتی ایکٹ کے خلاف بینرز، کتبے اور پمفلٹ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے اور مطالبات درج تھے۔ مظاہرین نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء کو مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے کیونکہ یہ نظام عوامی نمائندوں کو بااختیار بنانے کے بجائے بیوروکریسی کے قبضے کو مزید مضبوط کرتا ہے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں اور تمام اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل کیے جائیں۔ یوسی چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب براہِ راست اور خفیہ رائے دہی کے ذریعے کروایا جائے۔ اس موقع پرامیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بلدیاتی ایکٹ عوام دشمن اور غیر جمہوری ہے۔ اس سے نہ شفافیت آئے گی نہ ہی عوام کے مسائل حل ہوں گے۔ مخصوص نشستوں پر بالواسطہ انتخاب کو ہارس ٹریڈنگ کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین، لیبر، اقلیت اور یوتھ کے نمائندے بھی براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں۔عوامی ریلیوں میں یہ بھی مطالبہ سامنے آیا کہ شہری حکومتوں کو حقیقی اختیارات دے کر سرکاری اداروں اور بیوروکریسی کو مقامی حکومت کے ماتحت کیا جائے تاکہ عوامی مسائل نچلی سطح پر فوری اور شفاف طریقے سے حل ہو سکیں۔ مزید یہ کہ ٹاؤن کارپوریشن کے بجائے بڑے شہروں کے لیے میٹروپولیٹن کارپوریشن کا نظام نافذ کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔