جماعت اسلامی کا ملک بھر میں دھرنا دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
پنجاب کا بلدیاتی ایکٹ نہیں ہے یہ کالا قانون ہے، یہ قانون شہروں کا اور یونین کونسل کا حق کھا رہا ہے
یہ پہلے ایکٹ لاتے ہیں اور پھر اس کو چیلنج کرکے قوم کو بیوقوف بناتے ہیں، حافظ نعیم الرحمان کا خطاب
امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 21 دسمبر کو ملک بھر میں دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔ لاہور میں پنجاب کے بلدیاتی قانون کے خلاف مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب کا بلدیاتی ایکٹ نہیں ہے یہ کالا قانون ہے، یہ قانون شہروں کا اور یونین کونسل کا حق بھی کھا رہا ہے، یہ پہلے ایکٹ لاتے ہیں اور پھر اس کو چیلنج کرکے قوم کو بیوقوف بناتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جاگیرداروں نے پورے سسٹم پر قبضہ کیا ہوا ہے، یہ لوگ ظلم کے اس نظام کو قائم رکھتے ہیں، ہم 21 دسمبر کو پنجاب کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں دھرنا دیں گے، یہ جو کچھ بانٹتے ہیں اپنے ہی خاندان میں دیتے ہیں، 40، 40 سال پولیٹیکل ورکر محنت کرتا ہے لیکن کبھی پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ سب قوم کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں، ہم نے مل کر اس نظام کا خاتمہ کرنا ہے، جماعتِ اسلامی عوام کے ساتھ اتحاد کر رہی ہے، میں حکومت سے پوچھتا ہوں کوئی عوام کی آواز کے لیے بینر لگائے اور آپ اتار دیں؟ تمام اختیارات بلدیاتی حکومتوں کے حوالے ہونے چاہئیں، تحصیل گورنمنٹ کا اختیار ہونا چاہیٔے، یہ ملکاؤں اور بادشاہوں کا نظام نہیں ہے کہ جس کو چاہا نواز دیا، ہم اس کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔امیر جماعتِ اسلامی نے مزید یہ بھی کہا کہ ہمیں معلوم ہے ان لوگوں نے عدالتوں میں بھی قبضہ کیا ہوا ہے، یہ جو خاندانی پارٹیاں ہیں یہی مضبوط ہوتی رہیں، اس حوالے سے شعور آنا بہت ضروری ہے، میں میاں نواز شریف سے پوچھتا ہوں کہ یہ کون سی ووٹ کو عزت ہے کہ حکمران انڈر پاسز اور سڑکوں پر اپنی تختیاں لگاتے ہوئے نظر آئیں؟ یہاں تو چچا وزیرِاعظم اور بھتیجی وزیرِاعلیٰ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔