والد کے بارے میں قابل تصدیق معلومات نہیں‘ قاسم خان کا عمران خان کی سلامتی سے متعلق خدشات کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251202-01-16
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے جیل میں قید بانی عمران خان کے بیٹے قاسم خان کو خدشہ ہے کہ حکام ان کے والد کی حالت کے بارے میں ’کچھ ناقابلِ تلافی‘ معاملہ چھپا رہے ہیں۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی اور عمران خان کی بہنیں اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج اور دھرنے دے رہی ہیں، جہاں وہ قید ہیں کیونکہ انہیں گزشتہ 3 ہفتوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ایسے میں قاسم نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ خاندان کا سابق وزیراعظم سے نہ تو براہِ راست اور نہ ہی قابلِ تصدیق رابطہ ہے، حالانکہ عدالت نے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت دے رکھی ہے۔ انہوں نے تحریری بیان میں کہا کہ ’یہ نہ جاننا کہ آپ کے والد محفوظ ہیں، زخمی ہیں یا زندہ بھی ہیں یا نہیں، ذہنی اذیت کی ایک شکل ہے‘، انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے کوئی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ رابطہ نہیں ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارے پاس ان کی حالت کے بارے میں کوئی قابلِ تصدیق معلومات نہیں۔خاندان نے متعدد مرتبہ عمران کے ذاتی معالج کے لیے اجازت طلب کی ہے لیکن انہیں ایک سال سے زائد عرصے سے عمران کا معائنہ کرنے نہیں دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے