والد کے بارے میں کچھ چھپایا جارہا ہے،قاسم خان
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان اپنے والد کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہوگئے،انہوں نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ حکام ان کے والد کی حالت کے بارے میں کچھ ناقابل تلافی معاملہ چھپا رہے ہیں ۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی اور عمران خان کی بہنیں منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج اور دھرنے دے رہی ہیں، جہاں وہ قید ہیں، کیونکہ انہیں گزشتہ 3 ہفتوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
قاسم خان نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایاکہ خاندان کا سابق وزیراعظم سے نہ تو براہِ راست اور نہ ہی قابل تصدیق رابطہ ہے، حالانکہ عدالت نے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت دے رکھی ہے۔
انہوں نے تحریری بیان میں کہا کہ یہ نہ جاننا کہ آپ کے والد محفوظ ہیں، زخمی ہیں یا زندہ بھی ہیں یا نہیں، ذہنی اذیت کی ایک شکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے کوئی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ رابطہ نہیں ہو سکا ۔
انہوں نے کہا کہ آج ہمارے پاس ان کی حالت کے بارے میں کوئی قابل تصدیق معلومات نہیں، ہمارا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ ہم سے کچھ ایسا چھپایا جا رہا ہے جو ناقابل تلافی ہے ۔
خاندان نے متعدد مرتبہ عمران کے ذاتی معالج کےلیے اجازت طلب کی ہے، لیکن انہیں ایک سال سے زائد عرصے سے عمران کا معائنہ کرنے نہیں دیا گیا۔
قاسم خان نے کہا کہ یہ تنہائی دانستہ ہے، ان کے مطابق حکام عمران خان کو مکمل طور پر کٹ آف رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان سے ڈرتے ہیں، وہ پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور حکام جانتے ہیں کہ وہ انہیں جمہوری طریقے سے شکست نہیں دے سکتے۔
قاسم نے کہا کہ آخری مرتبہ انہوں نے اپنے والد کو نومبر 2022 میں دیکھا تھا، جب وہ قاتلانہ حملے میں عمران خان کے بچ جانے کے بعد پاکستان آئے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ وہ منظر آج تک ذہن میں نقش ہے، اپنے والد کو اس حالت میں دیکھنا آپ بھول نہیں سکتے۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ وقت کے ساتھ وہ بہتر ہو جائیں گے، لیکن اب کئی ہفتوں کی مکمل خاموشی اور زندگی کی کوئی علامت نہ ہونے کے بعد وہ یاد ایک مختلف معنی رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاندان اندرونی اور بیرونی تمام راستے اختیار کر رہا ہے، جن میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے رجوع کرنا بھی شامل ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق ملاقات فوری بحال کی جائے۔
قاسم خان نے کہا کہ یہ صرف سیاسی تنازع نہیں، یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، ہر سمت سے دبا ﺅ آنا چاہیے، ہمیں ان سے طاقت ملتی ہے، لیکن ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔