بنگلہ دیش: چٹوگرام وار سیمٹری سے جاپانی فوجیوں کی باقیات کی واپسی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
بنگلہ دیش نے چٹوگرام وار سیمٹری میں دفن کیے گئے 18 جاپانی فوجیوں کی باقیات کی نکاسی اور ان کی جاپان واپسی کامیابی سے مکمل کر لی۔ یہ فوجی دوسری عالمی جنگ کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ حسینہ، شیخ ریحانہ اور برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹولپ صدیق کو بنگلہ دیش میں کرپشن کیس میں سزائیں
جاپان کی حکومت کی جانب سے منتخب 10 رکنی ماہرین کی ٹیم 17 تا 28 نومبر 2025 کے دوران چٹگام میں موجود رہی اور نکاسی کے عمل کی نگرانی کی۔
یہ کارروائی بنگلہ دیش آرمی کے چٹگام ایریا کی مکمل انتظامی اور سکیورٹی معاونت کے تحت، ملک کی عبوری حکومت کی ہدایات کے مطابق انجام دی گئی۔
اس عمل کی نگرانی معروف آزادی پسند اور کھدائی ماہر، لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) قاضی سجاد علی ظہیر، بیر پروتیک نے کی۔
باقیات کی بازیابی کے بعد، 28 نومبر کو بنگلہ دیش آرمی کی جانب سے سرکاری گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، اور بعد ازاں باقیات کو باقاعدہ طور پر جاپان بھیج دیا گیا۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش کے شہر کھلنا میں عدالت کے باہر فائرنگ سے 2 افراد ہلاک
یہ کارروائی حالیہ برسوں میں دوسری بار انجام دی گئی ہے۔ سنہ 2024 میں بھی جاپان کی درخواست پر بنگلہ دیش نے کومیلا کے مینہماٹی وار سیمٹری سے 23 جاپانی فوجیوں کی باقیات نکال کر واپس بھیجی تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش جاپانی فوجی چٹوگرام وار سیمٹری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش جاپانی فوجی وار سیمٹری بنگلہ دیش
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔