انسان بھی دھل سکیں گے؛ جاپان میں ہیومن واشنگ مشین تیار
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹوکیو: جاپانی ٹیکنالوجی نے ایک بار پھر دنیا کو حیران کردیا۔ اوساکا ایکسپو 2025 میں دھوم مچانے والی مستقبل کی ہیومن واشنگ مشین اب باضابطہ طور پر جاپان میں فروخت کےلیے پیش کردی گئی ہے۔
یہ منفرد کیپسول نما مشین صارف کو اندر لیٹ کر پورا جسم دھلوانے، سکون بخش موسیقی سننے اور صرف 15 منٹ میں تازہ دم ہوکر باہر آنے کا حیرت انگیز تجربہ فراہم کرتی ہے، بالکل بغیر گھمائے، یعنی لانڈری اسپن موڈ کے بغیر۔یہ ایجاد جاپانی کمپنی Science Inc نے تیار کی ہے، جسے ’انسانوں کی دھلائی کا مستقبل‘ بھی کہا جارہا ہے۔ چھ ماہ جاری رہنے والے اوساكا ورلڈ ایکسپو میں اس ڈیوائس نے لاکھوں وزیٹرز کی توجہ سمیٹی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی اصل جڑیں 1970 کے اوساكا ایکسپو میں ہیں، جہاں دکھائی گئی ایک مشین نے Science Inc کے موجودہ صدر پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔
کمپنی کی ترجمان سچیکو ماایکورا کے مطابق یہ مشین صرف جسم ہی نہیں دھوتی بلکہ ’روح بھی دھو دیتی ہے‘۔ کیپسول کے اندر موجود جدید سینسر مسلسل دل کی دھڑکن اور دیگر اہم اشاروں کو مانیٹر کرتے رہتے ہیں تاکہ پورا عمل محفوظ رہے۔
بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کے بعد کمپنی نے اس پروٹو ٹائپ کو کمرشل بنانے کا فیصلہ کیا۔ اوساکا کے ایک ہوٹل نے سب سے پہلی مشین خرید لی ہے، جو بہت جلد یہ منفرد سروس اپنے مہمانوں کو فراہم کرے گا۔ اسی طرح جاپان کے مشہور الیکٹرانکس ریٹیلر یامادا ڈینکی نے بھی یہ مشین حاصل کرلی ہے۔ اسٹور میں 25 دسمبر سے اس کا ڈیمو یونٹ اور تجرباتی کارنر بھی کھولا جا رہا ہے تاکہ لوگ خود اس مستقبل سے روبرو ہوسکیں۔
چونکہ ٹیکنالوجی انتہائی منفرد ہے، کمپنی نے فی الحال صرف 50 مشینیں تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ایک مشین کی قیمت تقریباً 6 کروڑ ین (تقریباً 3 لاکھ 85 ہزار ڈالر) ہے۔کمپنی کے چیئرمین یاسواکی آویاما کا کہنا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ جو لوگ ایکسپو نہیں دیکھ سکے، وہ بھی اس حیرت انگیز ایجاد کو آزما سکیں۔‘
ہیومن واشنگ مشین کیسے کام کرتی ہے؟ کیپسول میں داخل ہوکر صارف 2.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔