پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ
پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان
ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سکتا ہے ۔دنیا بھر میں ایئر بس طیاروں کو نئے مسائل کا سامنا ہے ، ایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے نے ہزاروں طیاروں کو گراؤنڈ کرنے پر مجبور کر دیا ہے ، طیارہ ساز کمپنی نے ایئر لائنز کو نئی ہدایت جاری کر دی۔ایئربس طیاروں میں حالیہ نئے سافٹ ویئر کی سولر ریڈی ایشن (شمسی تابکاری)سے متاثر ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس پر ایئربس کمپنی نے دنیا بھر کی ایئر لائنز کے 6 ہزار طیارے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی ایاسا نے بھی ایئر وردی نیس ہدایت نامہ جاری کر کے کمپنی کو مذکورہ طیاروں کو فوری گرانڈ کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔پاکستان میں بھی ایئر لائنز کے پاس اے 320 طیارے ہیں، اس لیے فلائٹ آپریشن متاثر ہو سکتا ہے ۔ حال ہی میں ایئر بس نے ایک نیا سوفٹ ویئر 104 ریلیز کیا تھا، اس نئے سافٹ میں دوران پرواز متعدد ایئر لائنز کے طیاروں میں مسئلہ رپورٹ ہوا ہے ، جس پر کمپنی نے ہدایات دی ہیں کہ تمام ایئر لائنز پرانا سافٹ ویئر ورژن دوبارہ لوڈ کر لیں۔تاہم پی آئی اے کے ترجمان نے موقف میں کہا ہے کہ پی آئی اے کے پاس کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ہے ، اس لیے قومی ایئر لائن کے تمام طیارے محفوظ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ایئر لائنز طیاروں میں سافٹ ویئر
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔