مغربی کنارے میں سفاکیت کا منظر
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: غاصب صیہونی رژیم کی مغربی کنارے کے شمالی حصوں پر جارحیت کے دوران شدید بے رحمانہ مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ دو فلسطینی شہری المنتصر بااللہ عبداللہ اور یوسف اساسہ ایک عمارت کے باہر کھڑے تھے۔ جب صیہونی فوجیوں ان کے قریب آئے تو انہوں نے ہینڈز اپ کے طور پر اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا لیے لیکن صیہونی فوجیوں نے انتہائی قریب سے انہیں گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کر ڈالا۔ یہ افسوسناک واقعہ جمعرات کے روز پیش آیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ میڈیا کے کیمروں کے سامنے ہوا ہے اور پوری دنیا نے اسے دیکھا ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں پوری دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ صیہونی فوج کے اعلی سطحی کمانڈرز نے تحقیق کا وعدہ دے کر سب کو تسلی دینے کی کوشش کی ہے۔ تحریر: علی احمدی
جنین میں دنیا والوں نے جو منظر دیکھا وہ محض ایک افسوسناک واقعہ ہی نہیں بلکہ ایسی کھڑکی ہے جو گذشتہ کئی عشروں سے فلسطینیوں کی زندگی میں زہر گھولنے والی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ دو نہتے مردوں نے ہاتھ اوپر اٹھا رکھے ہیں اور اپنی طرف سے کوئی خطرہ نہ ہونے کو ثابت کرنے کے لیے قمیصیں بھی اتار رکھا ہیں لیکن غاصب صیہونی فوجی انہیں میڈیا کے کیمروں کے سامنے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ صیہونی فوجیوں نے انہیں حکم دیا کہ وہ عمارت میں واپس چلے جائیں۔ وہ واپس جا رہے تھے کہ ان پر فائرنگ کر دی اور اتنے قریب سے انہیں گولی ماری گئی کہ فائرنگ کرنے والوں کی نیت کے بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔ اس ویڈیو کلپ نے دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے جبکہ خود صیہونی رژیم کے اندر مختلف قسم کا ردعمل سامنے آیا ہے۔
غاصب صیہونی رژیم کے اندرونی حلقوں نے اس سفاکانہ اقدام پر اپنے فوجیوں کو سراہا ہے اور ان کے اقدام کو قانونی قرار دے کر اسی سیاست کو دہرایا ہے جو گذشتہ طویل عرصے سے "قتل کے لیے فائر" کے عنوان سے فلسطینیوں کے خلاف اختیار کی جا چکی ہے۔ ردعمل میں اس حد تک یہ اختلاف نہ صرف اخلاقی فاصلوں کی گہرائی کو واضح کرتا ہے بلکہ کئی عشروں سے جاری غاصبانہ قبضے اور محاصرے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ اس وقت سب کے ذہن میں یہ بنیادی سوال جنم لے چکا ہے کہ کیا ایسے ہی ایک اور سفاکانہ منظر کی تصویر کشی عالمی بے حسی کو ختم کر سکتی ہے یا دردناک مناظر کی فہرست میں محض ایک اور منظر کا اضافہ ہو جائے گا؟ جنین میں سامنے آنے والا یہ منظر سب دیکھنے والوں کے لیے ایک وارننگ ہے جو شدت پسندی معمول بن جانے اور اجتماعی ضمیر مر جانے کے خطرناک اثرات سے خبردار کر رہی ہے۔
خون کے پیاسے
غاصب صیہونی رژیم کی مغربی کنارے کے شمالی حصوں پر جارحیت کے دوران شدید بے رحمانہ مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ دو فلسطینی شہری المنتصر بااللہ عبداللہ اور یوسف اساسہ ایک عمارت کے باہر کھڑے تھے۔ جب صیہونی فوجیوں ان کے قریب آئے تو انہوں نے ہینڈز اپ کے طور پر اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا لیے لیکن صیہونی فوجیوں نے انتہائی قریب سے انہیں گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کر ڈالا۔ یہ افسوسناک واقعہ جمعرات کے روز پیش آیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ میڈیا کے کیمروں کے سامنے ہوا ہے اور پوری دنیا نے اسے دیکھا ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں پوری دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ صیہونی فوج کے اعلی سطحی کمانڈرز نے تحقیق کا وعدہ دے کر سب کو تسلی دینے کی کوشش کی ہے۔ دائیں بازو کے انتہاپسند وزیر سیکورٹی اتمار بن غفیر نے اس واقعے میں ملوث فوجیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وہی کیا ہے جو کرنا چاہیے تھا، دہشت گردوں کو مر جانا چاہیے۔
شدت پسندی کا ماڈل
جنوری 2024ء میں چھ سالہ ہند رجب کی شہادت غاصب صیہونی رژیم کی سفاکیت اور بے رحمی کی ایک اور مثال ہے۔ یہ بچی ایسی حالت میں زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھی جب اس کے اردگرد تمام اہلخانہ کی خون بھری لاشیں پڑی تھیں جو صیہونی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو گئے تھے۔ یہ بچی لرزتی ہوئی آواز میں فون پر مدد کی درخواست کر رہی تھی۔ ہند رجب اور اس کی مدد کے لیے آنے والے امدادی کارکنوں کی لاشیں بھی بعد میں سامنے آئیں۔ جنین میں حالیہ سفاکانہ واقعے سے ملتا جلتا غزہ میں ایک اور واقعہ مارچ 2024ء میں پیش آیا تھا۔ اتفاق سے وہ واقعہ بھی میڈیا کے کیمروں کی آنکھ میں محفوظ ہو گیا تھا۔ دو نہتے فلسطینی شہری صیہونی فوجیوں کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ غیر مسلح ہیں اور سرینڈر کر رہے ہیں لیکن سفاک صیہونی فوجیوں نے انہیں قریب سے فائرنگ کر کے شہید کر ڈالا۔
منظم نسل پرستی
جنین میں عبداللہ اور اساسہ کی شہادت مقبوضہ فلسطین کے اندر صیہونی فوج کے لیے مشکلات کا باعث نہیں بنے گی۔ غزہ کے خلاف بنجمن نیتن یاہو کی نسل پرستانہ جنگ کے دوران صیہونی فوج پر ٹارچر، زیادتی اور جان بوجھ کر فلسطینیوں کو بھوکا پیاسا رکھنے کے بے تحاشہ الزامات موجود ہیں لیکن مقبوضہ فلسطین میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے ان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کینسٹ کی عرب رکن عائدہ توما سلیمان نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے اس بارے میں کہا: "کوئی اس بات کو اہمیت نہیں دیتا اور اس کے بارے میں اظہار خیال کے لیے تیار نہیں ہے۔ دو ہفتے پہلے میں نے ٹارچر کو جرم قرار دینے کا بل پیش کرنے کی کوشش کی لیکن کابینہ کے وزرا نے میرے ساتھ شدید بدتمیز کی اور کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف حکومت کے ہاتھ مت باندھو۔"
اسی طرح انسانی حقوق کی ایک تنظیم "بتسلیم" میں پبلک ریلیشنز کی منیجر شای پرنس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلیوں کی اکثریت ایسی ہے جو کئی ماہ بلکہ کئی سال تک فلسطینیوں کو قریب سے نہیں دیکھتے اور ان کے بارے میں ان کے ذہن میں صرف وہی تصویر پائی جاتی ہے جو سرکاری ذرائع ابلاغ دکھاتے ہیں جبکہ سرکاری ذرائع ابلاغ ان سے خوف اور کینہ پھیلاتے ہیں۔ یش دین ہیومن رائٹس گروپ کی رپورٹس میں بھی ایا ہے کہ 2018ء سے 2022ء کے درمیان مغربی کنارے میں غاصب صیہونی فوج کو فوجیوں کے ظالمانہ رویے کے خلاف 862 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ زمینوں پر قبضہ، مقامی افراد کو جبری نقل مکانی پر مجبور کرنا اور یہودی آبادکاروں کے حملوں پر مبنی واقعات بھی کثرت سے سامنے آتے رہتے ہیں۔ 258 کیسز میں سے صرف 30 فیصد کی پیروی ہوئی ے اور صرف 13 کیسز میں 29 فوجیوں کے وارنٹ جاری ہوئے ہیں۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صیہونی فوجیوں نے غاصب صیہونی رژیم میڈیا کے کیمروں صیہونی فوج پوری دنیا کے خلاف ایک اور کی کوشش ہے اور کے لیے
پڑھیں:
شام کو اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کا پورا حق ہے، یمن
اپنے ایک جاری بیان میں انصار اللہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ تاریخ سے سبق نہیں لیتے اور اپنے دفاعی حق سے دستبردار ہو جاتے ہیں ان کا انجام بہت برا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یمن کی مقاومتی تحریک "انصار اللہ" کے پولیٹکل آفس نے اعلان کیا کہ وہ "دمشق" کے مضافات میں "بیت جن" پر صیہونی جارحیت کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے جاری بیان میں کہا کہ حالیہ صیہونی حملہ، شامی سالمیت کی واضح خلاف ورزی ہے جس کا مقصد قبضے کے دائرہ کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس علاقے کے باشندوں کی اسرائیلی فوجیوں کے خلاف شجاعانہ مزاحمت کو سراہتے ہیں۔ صرف جہاد اور مقاومت ہی دشمن سے نمٹنے کا ہتھیار ہیں۔ حملہ آوروں سے نرم رویہ ان کے تسلط پسندانہ منصوبوں کو نہیں روک سکتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ شام کو تمام موجودہ وسائل کے ساتھ صیہونی دراندازی کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔ تاہم جو لوگ تاریخ سے سبق نہیں لیتے اور اپنے دفاعی حق سے دستبردار ہو جاتے ہیں ان کا انجام بہت برا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ عرب اور اسلامی ممالک کو بھی ان حملوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے جو پوری امت اسلامیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔