سولر سسٹمز کی پیداوار گرڈ کی طلب سے تجاوز کرجائے گی، وزارت موسمیاتی تبدیلی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
وزارت موسمیاتی تبدیلی کی سیکریٹری عائشہ موریانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلی بار اگلے سال دن کے اوقات میں بعض بڑے صنعتی علاقوں میں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کی بجلی قومی گرڈ کی طلب سے زیادہ ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سولر صارفین کا رجحان آف گرڈ سولر سسٹم کی طرف کیوں بڑھ رہا ہے؟
عائشہ موریانی نے کوپ 30 کانفرنس کے موقعے پر رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران سولر پینلز کی تنصیبات میں بے مثال اضافہ ہوا ہے جس سے اخراجات اور بجلی کے بل کم ہوئے لیکن ساتھ ہی گرڈ پر مبنی بجلی کی طلب میں کمی کے باعث خسارے میں ڈوبی پاور کمپنیوں کے مالی معاملات مزید خراب ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کچھ اوقات میں گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب منفی ہو جائے گی کیونکہ گھروں اور صنعتوں میں نصب سولر سسٹمز کی پیداوار مکمل طور پر گرڈ کی کھپت کو بدل دے گی۔
عائشہ موریانی کے مطابق لاہور میں سب سے پہلے منفی طلب دیکھنے کا امکان ہے جہاں سولر پینٹریشن سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد فیصل آباد اور سیالکوٹ میں بھی یہی رجحان دیکھا جائے گا جہاں صنعتی علاقوں میں سولر کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
مزید پڑھیے: اب سولر کو آپ بھول جائیں، امریکی ’انورٹر بیٹری‘ نے پاکستان میں تہلکہ مچا دیا
بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ٹیرف میں اضافے نے 25 کروڑ آبادی والے ملک میں سولر اپنانے کے رجحان کو تیز کیا ہے جس کے باعث پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا سولر پینل درآمد کنندہ بن گیا ہے اور اس کی سولر پیداواری شرح ہمسایہ چین سے بھی زیادہ رفتار سے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گرمیوں کی دوپہر، صنعتی تعطیلات اور معتدل موسموں میں جب سورج کی روشنی زیادہ ہوتی ہے ایسے منفی طلب کے واقعات مزید بڑھ جائیں گے۔
عائشہ موریانی نے کہا کہ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ قابل تجدید توانائی کتنی بڑھے گی بلکہ یہ ہے کہ گرڈ، ضابطہ جاتی فریم ورک اور مارکیٹ ڈیزائن کس رفتار سے اس کے مطابق ڈھلتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سستے سولر پینل کی تیاری آغاز، بجلی کے بلوں سے پریشان صارفین کے لیے بڑا ریلیف
پاکستان بڑے سولر صارفین کے لیے نئے ٹیرف لانے اور فیس ڈھانچے میں تبدیلیاں کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے، تاکہ سولر استعمال کرنے والے صنعتی یونٹس بھی گرڈ کے اخراجات میں حصہ ڈالیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب میں 3 سے 4 فیصد اضافہ متوقع ہے جو ماضی کی نسبت کم ہے جبکہ اگلے سال طلب میں اضافہ تو ہوگا لیکن سولر کے بڑھتے استعمال کے باعث اس پر اثر پڑ سکتا ہے۔
سولر کے غیر معمولی پھیلاؤ کے بعد پاکستان نے قطر کے ساتھ اپنے ایل این جی معاہدوں پر دوبارہ بات چیت شروع کر دی ہے جبکہ اٹلی کی کمپنی ای این آئی کی کچھ سپلائیز بھی منسوخ کی گئی ہیں۔
پاکستان کم قیمت، زیادہ لچکدار ڈیلیوری شیڈول اور ممکنہ طور پر کم مقدار کی درآمد چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: میڈ ان پاکستان سولر ٹیکنالوجی پر کام شروع، قیمتوں میں کتنی کمی کا امکان ہے؟
اگرچہ کوپ 30 میں قطر کے ساتھ باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے لیکن عائشہ موریانی کے مطابق کانفرنس نے توانائی وزرا اور تجارتی نمائندوں کے ساتھ سفارتی سطح پر گفتگو کا اہم موقع فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مقصد اپنی گیس درآمدی حکمت عملی کو مالی گنجائش، بجلی کی طلب اور موسمی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: فلیٹس میں رہنے والے لوگ کیسے اور کتنے میں سولر سسٹم لگوا سکتے ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان استحکام اور مناسب قیمت چاہتا ہے ایل این جی انحصار میں مزید اضافہ نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان میں سولر سسٹم سولر سسٹم سولر سسٹم کی کامیابی وزارت موسمیاتی تبدیلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان میں سولر سسٹم سولر سسٹم سولر سسٹم کی کامیابی وزارت موسمیاتی تبدیلی انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان عائشہ موریانی پاکستان میں بجلی کی طلب سولر سسٹم میں سولر کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔