وزارت موسمیاتی تبدیلی کی سیکریٹری عائشہ موریانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلی بار اگلے سال دن کے اوقات میں بعض بڑے صنعتی علاقوں میں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کی بجلی قومی گرڈ کی طلب سے زیادہ ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سولر صارفین کا رجحان آف گرڈ سولر سسٹم کی طرف کیوں بڑھ رہا ہے؟

عائشہ موریانی نے کوپ 30 کانفرنس کے موقعے پر رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران سولر پینلز کی تنصیبات میں بے مثال اضافہ ہوا ہے جس سے اخراجات اور بجلی کے بل کم ہوئے لیکن ساتھ ہی گرڈ پر مبنی بجلی کی طلب میں کمی کے باعث خسارے میں ڈوبی پاور کمپنیوں کے مالی معاملات مزید خراب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کچھ اوقات میں گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب منفی ہو جائے گی کیونکہ گھروں اور صنعتوں میں نصب سولر سسٹمز کی پیداوار مکمل طور پر گرڈ کی کھپت کو بدل دے گی۔

عائشہ موریانی کے مطابق لاہور میں سب سے پہلے منفی طلب دیکھنے کا امکان ہے جہاں سولر پینٹریشن سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد فیصل آباد اور سیالکوٹ میں بھی یہی رجحان دیکھا جائے گا جہاں صنعتی علاقوں میں سولر کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیے: اب سولر کو آپ بھول جائیں، امریکی ’انورٹر بیٹری‘ نے پاکستان میں تہلکہ مچا دیا

بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ٹیرف میں اضافے نے 25 کروڑ آبادی والے ملک میں سولر اپنانے کے رجحان کو تیز کیا ہے جس کے باعث پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا سولر پینل درآمد کنندہ بن گیا ہے اور اس کی سولر پیداواری شرح ہمسایہ چین سے بھی زیادہ رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرمیوں کی دوپہر، صنعتی تعطیلات اور معتدل موسموں میں جب سورج کی روشنی زیادہ ہوتی ہے ایسے منفی طلب کے واقعات مزید بڑھ جائیں گے۔

عائشہ موریانی نے کہا کہ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ قابل تجدید توانائی کتنی بڑھے گی بلکہ یہ ہے کہ گرڈ، ضابطہ جاتی فریم ورک اور مارکیٹ ڈیزائن کس رفتار سے اس کے مطابق ڈھلتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سستے سولر پینل کی تیاری آغاز، بجلی کے بلوں سے پریشان صارفین کے لیے بڑا ریلیف

پاکستان بڑے سولر صارفین کے لیے نئے ٹیرف لانے اور فیس ڈھانچے میں تبدیلیاں کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے، تاکہ سولر استعمال کرنے والے صنعتی یونٹس بھی گرڈ کے اخراجات میں حصہ ڈالیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب میں 3 سے 4 فیصد اضافہ متوقع ہے جو ماضی کی نسبت کم ہے جبکہ اگلے سال طلب میں اضافہ تو ہوگا لیکن سولر کے بڑھتے استعمال کے باعث اس پر اثر پڑ سکتا ہے۔

سولر کے غیر معمولی پھیلاؤ کے بعد پاکستان نے قطر کے ساتھ اپنے ایل این جی معاہدوں پر دوبارہ بات چیت شروع کر دی ہے جبکہ اٹلی کی کمپنی ای این آئی کی کچھ سپلائیز بھی منسوخ کی گئی ہیں۔

 

پاکستان کم قیمت، زیادہ لچکدار ڈیلیوری شیڈول اور ممکنہ طور پر کم مقدار کی درآمد چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: میڈ ان پاکستان سولر ٹیکنالوجی پر کام شروع، قیمتوں میں کتنی کمی کا امکان ہے؟

اگرچہ کوپ 30 میں قطر کے ساتھ باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے لیکن عائشہ موریانی کے مطابق کانفرنس نے توانائی وزرا اور تجارتی نمائندوں کے ساتھ سفارتی سطح پر گفتگو کا اہم موقع فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مقصد اپنی گیس درآمدی حکمت عملی کو مالی گنجائش، بجلی کی طلب اور موسمی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: فلیٹس میں رہنے والے لوگ کیسے اور کتنے میں سولر سسٹم لگوا سکتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان استحکام اور مناسب قیمت چاہتا ہے ایل این جی انحصار میں مزید اضافہ نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان میں سولر سسٹم سولر سسٹم سولر سسٹم کی کامیابی وزارت موسمیاتی تبدیلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان میں سولر سسٹم سولر سسٹم سولر سسٹم کی کامیابی وزارت موسمیاتی تبدیلی انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان عائشہ موریانی پاکستان میں بجلی کی طلب سولر سسٹم میں سولر کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم