پشاور فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر دھماکہ قابلِ مذمت ہے، علامہ شبیر حسن میثمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
ایک بیان میں ایس یو سی کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ قوم اپنے محافظ اداروں سے مؤثر حکمتِ عملی اور ٹھوس عملی اقدامات کی متقاضی ہے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ناگزیر ہے، ملک دشمن گروہوں کے خلاف جامع اور فیصلہ کن آپریشن وقت کی اہم ضرورت ہے اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے گہری تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ علامہ شبیر میثمی نے کہا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری کے ساتھ خودکش حملے کو ناکام بنا کر جس جرات کا مظاہرہ کیا، وہ لائقِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے واقعات ملکی امن و استحکام کو کمزور کرنے کی گھناٶنی سازش ہیں، گزشتہ چند ہفتوں میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد، وانا اور اب پشاور کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک دشمن عناصر ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم اپنے محافظ اداروں سے مؤثر حکمتِ عملی اور ٹھوس عملی اقدامات کی متقاضی ہے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ناگزیر ہے، ملک دشمن گروہوں کے خلاف جامع اور فیصلہ کن آپریشن وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پاکستان میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔