آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس سے قبل ایرانی و روسی وزرائے خارجہ کی دوسری گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
آج اپنے روسی ہم منصب کیساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کیجانب سے تکنیکی صلاحیتوں اور سیاسی رویے پر عملدرآمد سمیت امریکہ اور بعض یورپی اراکین کے دباؤ و سیاسی اثر و رسوخ سے بچاؤ کی ضرورت پر زور دیا ہے اسلام ٹائمز۔ ایران اور روسی فیڈریشن کے وزرائے خارجہ سید عباس عراقچی اور سرگئی لاوروف نے گذشتہ ہفتے کے دوران دوسری بار ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق یہ ٹیلیفونک گفتگوئیں آئی اے ای اے (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے موقع پر انجام پائی ہیں جن میں دوطرفہ تعلقات سے متعلق تازہ ترین پیشرفت اور علاقائی و بین الاقوامی مسائل جیسے متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اپنے روسی ہم منصب کیساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی جانب سے تکنیکی صلاحیتوں اور سیاسی رویے پر عملدرآمد سمیت امریکہ اور بعض یورپی اراکین کے دباؤ و سیاسی اثر و رسوخ سے بچاؤ کی ضرورت پر زور دیا۔ قبل ازیں ایرانی و روسی وزرائے خارجہ نے بدھ 12 نومبر کے روز بھی ٹیلیفونک گفتگو کی تھی جس میں پاکستان و افغانستان کے درمیان کشیدگی سمیت اس ہفتے منعقدہ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس بھی زیر بحث آیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹیلیفونک گفتگو
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔