عالمی سیاحت 357 ملین سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے، سعودی وزیر سیاحت احمد الخطیب
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
.
.
سعودی وزیر سیاحت احمد الخطیب نے کہا ہے کہ عالمی سیاحت کا شعبہ اس وقت 357 ملین سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے.
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ 2034 تک مزید 90 ملین نئی نوکریاں پیدا ہوں گی، تاہم 40 ملین کی کمی فوری حل کی متقاضی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
ریاض میں Tourise کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوے وزیر نے کہا کہ یہ مسئلہ حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی زیرِ بحث آیا، اور اسے حل کرنے کے لیے سرکاری ونجی شعبوں کے اشتراک سے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں 50 سے زائد ممالک کے وزرائے سیاحت شریک ہیں، جو سیاحت میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر گفتگو کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کا دور ضرور آئے گا، مگر بعض خدمات میں انسانی رابطے کا متبادل ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں:
احمد الخطیب نے مزید کہا کہ سیاحت کا شعبہ خواتین کے لیے 40 فیصد اور نوجوانوں کے لیے 30 فیصد روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
’اس لیے ضروری ہے کہ چھوٹے ممالک، جزائر اور ترقی پذیر خطے، خصوصاً افریقہ، لاطینی امریکا اور کیریبین کو بھی ترقی اور باعزت روزگار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Tourise کانفرنس احمد الخطیب اقوام متحدہ جنرل اسمبلی روزگار سعودی وزیر سیاحت عالمی سیاحت مصنوعی ذہانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: Tourise کانفرنس احمد الخطیب اقوام متحدہ جنرل اسمبلی روزگار سعودی وزیر سیاحت عالمی سیاحت مصنوعی ذہانت احمد الخطیب کے لیے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔