اسلام آباد دھماکے میں ملوث کسی کو نہیں چھوڑیں گے: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد دھماکے میں ملوث کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ جو کوئی دوسرے ملک سے بھی ملوث ہوا تو معاف نہیں کیا جائے گا۔
اسلام آباد کچہری کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج 12 بج کر 39 منٹ پر خود کش حملہ ہوا، خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خودکش حملہ آور 10 سے 15 منٹ کھڑا رہا، خودکش حملہ آور اندر جانے کی پلاننگ کرتا رہا، پولیس کی گاڑی آئی تو خودکش حملہ آور نے حملہ کر دیا۔
محسن نقوی کا کہنا ہے کہ حملہ آور افغانستان میں اپنے ہینڈلر سے رابطہ میں تھے، ہمیں اپنے ملک اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، وانا کے علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
پارکنگ ایریا میں دھماکے سے آگ لگ گئی اور قریب کھڑی گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔
انہوں نے کہا کہ شواہد دیے ہیں کہ افغانستان میں لوگوں کی ٹریننگ ہو رہی ہے، دہشت گردوں کو نہیں روکا گیا تو ہم ان کا بندوبست کریں گے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آج کے حملے میں بہت سی چیزیں لنک ہیں، جلد شواہد سامنے لائیں گے، آج کے وقت میں اس حملے کے بہت سے میسجز ہیں، 2 ہفتے بعد کوئی بھی گاڑی ٹیگ کے بغیر اسلام آباد داخل نہیں ہوگی، پہلی ترجیح میں خودکش حملہ آور کی شناخت کریں گے۔ کچہری حملہ میں ملوث کرداروں کو بھی سامنے لایا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وانا میں بھی ایک خودکش حملہ آور نے حملہ کیا ہے، کیڈٹ کالج میں 3 شہادتیں ہوئی ہیں، حملہ آور کیڈٹ کالج میں لوگوں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے، مگر کامیاب نہیں ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ کل وانا میں بھی گاڑی سوار خود کش حملہ آور انٹری پوائنٹ پر پھٹا، وانا میں بھی علاقے کی کلیئرنس جاری ہے، وانا حملے میں افغانستان ملوث ہے، افغانستان میں کمیونیکیشن ہوتی رہی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں جی الیون کچہری کے باہر بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج کے خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دھماکے کی جگہ سے مبینہ خودکش حملہ آور کا سر بھی مل گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خودکش حملہ آور دھماکے میں محسن نقوی نے کہا کہ کا کہنا
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔