برطانیہ کے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 75 ارکان پارلیمان نے لندن کے سی لائف ایکویریم میں زیرزمین رکھے گئے 15 جنٹو پینگوئنز کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ پینگوئنز برسوں سے ایسے تہہ خانے میں قید ہیں جہاں نہ سورج کی روشنی پہنچتی ہے اور نہ تازہ ہوا۔ مہم چلانے والے ارکان نے اسے غیر برطانوی طرز عمل قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا کے پینگوئنز بھی ٹرمپ ٹیرف متاثرین میں شامل

ارکان پارلیمان نے ایک مشترکہ خط میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پینگوئنز کی فلاح و بہبود کے حالات کا فوری جائزہ لیا جائے اور انہیں ایسی جگہ منتقل کیا جائے جو ان کی فطری، ماحولیاتی اور جسمانی ضروریات کے مطابق ہو۔

ایکویریم کے مالکان مرلن انٹرٹینمنٹ نے مئی 2011 میں پہلی بار 10 جنٹو پینگوئنز کو ایڈنبرا چڑیا گھر سے منگوایا تھا، جو اب 15 ہو چکے ہیں۔

لیبر پارٹی کے رکن پارلیمان ڈیوڈ ٹیلر نے کہا کہ پینگوئنز کو ایسے تہہ خانے میں رکھنا جہاں نہ دن کی روشنی ہو اور نہ ہوا، برطانوی اقدار کے منافی ہے۔ ان کے مطابق کسی جانور کو اس طرح قید رکھنا اور اس کی فلاح کو پیسوں کے عوض نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا میں شاہی پینگوئن کی آبادی میں خطرناک حد تک کمی کا سبب کیا ہے؟

مہم چلانے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ پینگوئنز گزشتہ 14 سال سے اسی زیرزمین جگہ میں ہیں جہاں ان کے تالاب کی گہرائی صرف 6 سے 7 فٹ بتائی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ ان جنٹو پینگوئنز کو لندن کے سی لائف ایکویریم میں نمائش اور سیاحتی مقاصد کے لیے رکھا گیا ہے۔

ایکویریم انتظامیہ کے مطابق ان پینگوئنز کو تعلیمی اور تفریحی تجربے کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ عوام سمندری حیات کے بارے میں زیادہ جان سکیں۔ تاہم، جانوروں کے حقوق کے کارکنوں اور ارکانِ پارلیمان کا مؤقف ہے کہ ان پینگوئنز کو غیر فطری اور غیر صحت مند ماحول میں رکھا گیا ہے، کیونکہ وہ تہہ خانے میں روشنی اور تازہ ہوا سے محروم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹکا میں پرندوں سے ملنے والے برڈ فلو وائرس کا جینیاتی کوڈ تیار

مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ پینگوئنز کو ایسے مرکز یا قدرتی ماحول میں منتقل کیا جانا چاہیے جہاں وہ قدرتی درجہ حرارت، روشنی اور جگہ کے ساتھ رہ سکیں، بجائے اس کے کہ انہیں سیاحوں کی دلچسپی کے لیے قید رکھا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ارکان پارلیمان ایکویریم برطانیہ جنٹو پینگوئنز سی لائف لندن نمائش.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ارکان پارلیمان برطانیہ جنٹو پینگوئنز سی لائف ارکان پارلیمان جنٹو پینگوئنز پینگوئنز کو کے مطابق سی لائف

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟