سپریم کورٹ کے اختیارات ختم کرنا غیر آئینی ہے، 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
27ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل ہی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ نے ترمیم کے خلاف درخواست دائر کردی۔
جواد ایس خواجہ نے درخواست 184 تین کے تحت دائر کی ہے، جس میں وفاق اور وزارت قانون انصاف کو فریق بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: قومی اسمبلی: 27 ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل پیش، دو تہائی اکثریت سے منظوری کا امکان
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے آئینی دائرہ اختیار کو کم نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ کا آئینی دائرہ اختیار کسی اور عدالت یا فورم کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات ختم کرنا غیر آئینی ہے، عدالت آئین میں ایسی کسی ترمیم کو کالعدم قرار دے جو سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار کم کرے۔
جواد ایس خواجہ نے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ اعلان کرے کہ وہ خود آئینی ترامیم کی آئینی حیثیت کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ آئینی عدالت یا کسی اور فورم کو سپریم کورٹ کے اختیارات دینا آئین سے متصادم ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت ہائیکورٹ ججز کی منتقلی سے متعلق شقیں بھی کالعدم کی جائیں، درخواست کے فیصلے تک 27ویں ترمیم کے متنازعہ حصوں پر عملدرآمد روکا جائے۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم پر ریٹائرڈ ججز کیا کہتے ہیں؟
واضح رہے کہ ایوان بالا (سینیٹ) نے دو تہائی اکثریت سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے، جبکہ ترمیم کا ڈرافٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے، اور امکان ہے کہ ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور ہو جائےگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئینی ترمیم اختیارات جواد ایس خواجہ سابق جج سپریم کورٹ غیر آئینی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اختیارات جواد ایس خواجہ سپریم کورٹ وی نیوز 27ویں ا ئینی ترمیم جواد ایس خواجہ سپریم کورٹ کے ترمیم کے گیا ہے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
سکردو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیح ہے اور انہیں ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی اور بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔(جاری ہے)
جی بی ای-8 سکردو-2 میں انتخابی مہم کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار حاجی اکبر تابان کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر عوام کی محرومیاں ختم کرے گی اور گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے پارلیمنٹ میں مؤثر آواز اٹھائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور خطے میں بجلی کے نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاکستان کے قیام کا جو مقصد تھا، اسے پورا کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل، خدمت اور عوامی ترقی کی سیاست ہے۔