اسلام آباد دھماکے کے بعد لاہور میں حساس مقامات کی سیکیورٹی ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خودکش حملے میں 12 افراد کے شہید ہونے کے بعد لاہور کے حساس مقامات کی سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ لاہور پولیس نے حساس مقامات کے گرد سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا، اسلام آباد واقعے کے بعد شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی میں مزید سختی بھی کر دی گئی ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بتایا کہ لاہور پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مکمل الرٹ ہے، ڈی آئی جی آپریشنز نے شہر بھر میں سرچ اینڈ سویپ آپریشنز تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے ڈولفن اسکواڈ اور پیرو فورس کو لاہور میں اضافی گشت کی ہدایات جاری کر دیں۔فیصل کامران نے فیلڈ ٹیموں کو پارکنگ پوائنٹس پر گاڑیوں کی سخت چیکنگ یقینی بنانے اور مشکوک افراد و مشکوک گاڑیوں کی بغیر شناخت داخلے پر زیرو ٹالرنس یقینی بنانے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ آج دوپہر اسلام آباد کے علاقے جی الیون میں کچہری کے باہر پولیس کی گاڑی پر خُودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوگئے تھے۔سرکاری نشریاتی ادارے ’پی ٹی وی نیوز‘ نے بتایا کہ اسلام آباد جی الیون کچہری کے باہر بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنۃ الخوارج نے خودکش دھماکا کیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سخت سیکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کچہری میں داخل نہیں ہو سکے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے