عامر رشید کبھی کشمیر سے باہر گیا ہی نہیں، دہلی کار دھماکہ کیساتھ اسکا کوئی تعلق نہیں، اہل خانہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
دہلی بلاسٹ کیس کے بعد عامر اور اسکے بھائی سمیت کئی دیگر نوجوانوں کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا گیا ہے اور اس ضمن میں پولیس کیجانب سے کوئی وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کار دھماکہ کیس میں گاڑی کے مالک کے طور پر جو تصویر گردش کر رہی ہے وہ عامر رشید کی ہے جو ضلع پلوامہ کے سمبورہ علاقے کے رہنے والے ہے تاہم اس کے اہل خانہ اس کیس میں اس کے ملوث ہونے سے صاف انکار کر رہے ہیں۔ دہلی کار دھماکہ، جس میں تقریباً 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، کے سلسلے میں اس وقت سبھی ایجنسیز جدید اور سائنسی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا رہے ہیں اور تمام زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہے اور دھماکہ کے فوراً بعد ہی بلاسٹ میں استعمال ہونے والی گاڑی کا کنکشن پلوامہ کے ایک شہری کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ وائرل ہوئی تصویر میں طارق احمد کا نام بتایا جا رہا ہے تاہم وہ شہری عامر رشید ہے اور پلوامہ ضلع کے سمبورہ علاقے کا رہائشی ہے اور پیشہ سے ایک پلمبر ہے۔
عامر رشید کی والدہ سمیت مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ عامر کا اُس گاڑی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور وہ کبھی کشمیر سے باہر نہیں گیا۔ عامر رشید کے اہل خانہ نے ان کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عامر نے کبھی وادی سے باہر سفر نہیں کیا اور نہ ہی باہر کے رجسٹریشن نمبر کی کوئی گاڑی کبھی خریدی ہے۔ دہلی بلاسٹ کیس کے بعد عامر اور اسکے بھائی سمیت کئی دیگر نوجوانوں کو پوچھ تاچھ کے لئے طلب کیا گیا ہے اور اس ضمن میں پولیس کی جانب سے کوئی وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ دونوں بھائیوں عامر رشید اور عمر رشید کو پولیس نے پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لے لیا ہے اور فی الحال پوچھ گچھ جاری ہے۔
وہیں فرید آباد کیس میں ضلع کے کوئل علاقے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مزمل شکیل کے اہل خانہ نے بھی میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پچھلے چار برسوں سے تعلیم کے لئے بہار میں تھا اور ہمیں اس معاملے، گرفتاری کے بارے میں کچھ علم نہیں کہ وہاں کیا ہوا اور اسے کس بات پر گرفتار کیا گیا۔ یاد رہے کہ پولیس پولیس دو الگ الگ کیسوں میں آج صبح پلوامہ ضلع سے 4 افراد کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا ہے اور فی الحال ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ وہیں ڈاکٹر سجاد احمد ملہ نامی ایک اور شہری کو پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لے لیا جو الفلاح یونیورسٹی میں کام کر رہا تھا، اسی یونیورسٹی میں ڈاکٹر عمر اور مذمل شکیل بھی کام کر رہے تھے جنہیں گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر سجاد ملہ کی دو روز قبل ہی شادی ہوئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اہل خانہ پوچھ گچھ کیا گیا کو پوچھ کے لئے ہے اور اور اس
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔