کراچی:

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس، ڈسٹرکٹ سینٹرل کی جانب سے کراچی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی میں آنے والی خسرہ، روبیلا اور پولیو  سے بچاؤ کی مہم کے حوالے سے ایڈوکیسی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

سیمینار میں  وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر نعیم قائمخانی، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے اراکین، سماجی کارکنان اور لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کراچی میٹرو پولیٹن یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں منعقدہ  سیمینار میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر  ڈاکٹر فرقان نبیل خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ خسرہ  ایک مہلک مرض ہے جو بچوں کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے، اپنے بچوں کو اس مہلک بیماری سے بچاؤ کے لیے  والدین ویکسین ضرور لگوائیں۔ 

انہوں نے کہا کہ  پولیو بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور کردینے والی بیماری ہے،  خسرہ اور  روبیلا ( جرمن خسرہ ) سے بچاؤ کی ویکسین کے ساتھ ساتھ اس مہم کے دوران بچوں کو  پولیو سے بچاؤ کے قطرے بھی پلائے جائیں گے۔

ڈاکٹر فرقان نبیل خان نے کہا کہ 17 نومبر سے شروع ہونے والی مہم میں ضلع وسطی میں 5 لاکھ 65 ہزار 155 بچوں تک رسائی یقینی بنائی جائے گی جس میں 1500 سے زیادہ ہیلتھ ورکر حصہ لیں گے۔

ڈاکٹر فرقان نبیل خان نے والدین سے اپیل کی  کہ  وہ  مہم کے دوران گھر گھر آنے والی محکمہ صحت سندھ کی ٹیموں سے تعاون کریں اور بچوں کو خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کے ٹیکے لگوائیں اور پولیو کے قطرے بھی پلوائیں۔ 

سیمینار میں معروف مزاحیہ اداکار سلیم آفریدی، سماجی کارکن یونس آمین سمیت  نے شرکا سے  اظہار خیال کرتے ہوئے خسرہ، روبیلا اور پولیو سے بچاؤ کے  لیے آگاہی دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سے بچاؤ کے نے والی بچوں کو مہم کے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے