ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ کا 13واں ایڈیشن پاکستان ٹیم کی قسمت نہیں بدل سکا، گرین شرٹس نے کوالیفائر کے تمام میچز جیت کر جو بلند امیدیں روشن کی تھیں وہ ورلڈ کپ میں پوری نہ ہو پائیں،اسی وجہ سے کوچ محمد وسیم کو بھی برطرف کر دیا گیا۔

ایونٹ میں پاکستان کو پہلے مقابلے میں بنگلہ دیش نے 7 وکٹ سے مات دی، روایتی حریف بھارت کیخلاف 88 رنز سے شکست مقدر بنی، 248 کا ہدف پانے والی ٹیم 159 رنز پر ہمت ہارگئی ، آسٹریلیا کے ہاتھوں 107 رنز سے ناکامی ملی، جنوبی افریقہ کیخلاف ڈی ایل میتھڈ پر 150 رنز سے ہار گرین شرٹس کو ملی۔

سری لنکا، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ سے میچز بارش کی نذر ہونے پر مجموعی طور پر 3 پوائنٹس مل گئے لیکن 8 ٹیموں کے ایونٹ میں آخری پوزیشن پر ہی جگہ مل سکی، انفرادی طور پر کپتان اور آل راؤنڈر فاطمہ ثنا کی کارکردگی قابل ذکر رہی، انھوں نے 7 میچزمیں 10 وکٹیں اپنے نام کیں، یہ ٹیم میں سب سے بہترین پرفارمنس رہی، انگلینڈ کیخلاف بارش سے متاثرہ میچ میں انھوں نے 27 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔

مشترکہ میزبان بھارت نے پہلی بار ٹرافی اپنے قبضے میں کرلی، فائنل میں جنوبی افریقی ٹیم ناکام رہی ،اس دوران کئی ریکارڈز ٹوٹ گئے، نوی ممبئی میں منعقدہ فائنل میں بھارتی ٹیم 52 رنز سے فتحیاب رہی،سمرتی مندھانا نے ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ 434 رنز بنا کر ہم وطن متھالی راج کا 2017 کا ریکارڈ توڑ دیا۔ شیفالی ورما نے فائنل میں 87 رنز بنا کر ورلڈکپ فائنل میں بھارتی اوپنر کی سب سے بڑی اننگز کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا، کپتان ہرمن پریت کور نے ناک آؤٹ مرحلے میں مجموعی طور پر 331 رنز بنا کر آسٹریلیا کی بیلینڈا کلارک کو پیچھے چھوڑ دیا۔

آل راؤنڈر دیپتی شرما ورلڈکپ کی تاریخ میں کسی ایک ایڈیشن میں 200 سے زائد رنز بنانے اور 20 سے زائد وکٹیں اڑانے والی پہلی پلیئر بنیں، انھوں نے فائنل میں 58 رنز اسکور کیے اور 5 وکٹیں حاصل کیں، ریچا گھوش نے 12 چھکوں کے ساتھ ویسٹ انڈیز کی ڈینڈرا ڈوٹن کا ریکارڈ برابر کیا، بھارت کا 298 کا مجموعہ ویمنز ورلڈکپ فائنل کی تاریخ کا دوسرا بڑا اسکور قرار پایا، سمرتی مندھانا اور شیفالی ورما کے درمیان 100 رنز کی اوپننگ شراکت بھارتی ٹیم کی کسی بھی ورلڈکپ فائنل میں سب سے بڑی پارٹنرشپ ثابت ہوئی۔

رنر اپ سائیڈ جنوبی افریقہ کی کپتان لیورا وولوارڈٹ نے شاندار کارکردگی کے بعد آئی سی سی ویمنز ون ڈے بیٹنگ رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن حاصل کی، انھوں نے سیمی فائنل اور فائنل دونوں میں سنچریاں بنائیں،لیورا نے مجموعی طور پر 571 رنز بنا کر ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ رنز کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔

اس کے علاوہ ایونٹ کے دوران ہر ٹیم میں کسی ایک پلیئر نے اپنے عمدہ کھیل سے سب کو متاثر کیا۔ آسٹریلیا کی ایشلیگ گارڈنرنے 2 سنچریوں اور ایک نصف سنچری کے ساتھ 328 رنز بنائے اور 7 وکٹیں بھی اڑائیں،ان کی 69 گیندوں پر سنچری ٹورنامنٹ کی تیز ترین اننگزشمار ہوئی، انھوں نے کسی بھی بیٹر سے زیادہ 82 کی اوسط بھی پائی۔ انگلینڈ کی کپتان نیٹ اسکوایئر برنٹ نے بھی بیٹ اور بال سے عمدہ پرفارم کیا، انھوں نے 262 رنز بنائے اور 9 وکٹیں حاصل کیں، ان کی ایک سنچری اور ایک نصف سنچری ٹیم کے لیے کلیدی ثابت ہوئی۔سری لنکن کپتان چماری اتاپتو نے بھی حسب توقع ملکی ٹیم کے لیے نمایاں کھیل پیش کیا۔

انھوں نے 168 رنز بنانے کے ساتھ 5 وکٹیں بھی اپنے کھاتے میں درج کرائیں، بنگلہ دیش سے میچ میں 46 رنز بنانے کے بعد 42رنز کے عوض 4 وکٹیں اہم پرفارمنس رہی، سری لنکن ٹیم نے پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں نمبر پر اختتام کیا۔ نیوزی لینڈ کی کپتان سوفی ڈیوائن الوداعی ایونٹ میں ٹیم کو سیمی فائنل تک نہیں پہنچا پائیں، انھوں نے ایک سنچری اور 2 نصف سنچریاں بنائیں اور 4 وکٹیں حاصل کیں، یہ ورلڈ کپ ان کے ون ڈے کیریئر کا اختتام بھی رہا۔ بنگلہ دیش کی اوپنر شرمین اختر نے 2 نصف سنچریاں اسکور کیں، جنوبی افریقہ کے خلاف ففٹی اور سری لنکا کے خلاف ناقابلِ شکست 64 رنز ان کی بہترین اننگز رہیں، شرمین کی مستقل مزاجی بنگلہ دیش کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوئی۔

2025 کا ایڈیشن مجموعی طور پر بیٹرز کے لیے یادگار رہا، بھارت اور سری لنکا کی فلیٹ پچز پر ان کو صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا بھرپور موقع میسر آیا، کئی ریکارڈز ٹوٹے، نئی بلندیوں کو چھوا گیا اور ویمنز کرکٹ کی تاریخ میں نیا باب رقم ہوا، بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں چھکوں اور چوکوں کی برسات رہی، پہلی مرتبہ آسٹریلیا اور انگلینڈ فائنل سے باہر ہوئے۔

بھارت نیا چیمپئن بن کر ابھرا، جنوبی افریقہ نے بھی پہلی بار فائنل تک رسائی پائی، ایونٹ میں مجموعی طور پر 15 سنچریاں بنیں، یہ 2017 کے مقابلے میں ایک زیادہ ہے،جنوبی افریقہ کی کپتان لورا وولوارڈٹ 2 سنچریوں کے ساتھ نمایاں رہیں، ان میں سیمی فائنل میں 169 رنز کی سب سے بڑی اننگز شامل ہے۔ آسٹریلیا اور بھارت نے مل کر ویمنز کرکٹ کی تاریخ کی 2 سب سے بڑی رن چیس مکمل کیے، مجموعی طور پر8مرتبہ 300 سے زائد رنز بنائے،یہ کسی بھی ایڈیشن میں سب سے زیادہ ہیں۔

ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 133 چھکے لگے، یہ اپنے طور پر ایک نیا ریکارڈ ہے، بھارتی کھلاڑی ریچا گھوش نے 12 بلند وبالااسٹروکس کھیلے جو ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رہے۔ بھارت اور آسٹریلیا کے سیمی فائنل میں مجموعی طور پر 679 رنز بنے، یہ ورلڈ کپ تاریخ کا سب سے زیادہ اسکور ہے،آسٹریلیا کی 6 بیٹرز نے سنچریاں بنائیں جو کسی ایک ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ ہیں۔یہ ورلڈ کپ نہ صرف ریکارڈز کے لحاظ سے یادگار رہا بلکہ ویمنز کرکٹ کی ترقی، معیار اور جوش و خروش کی بہترین عکاسی بھی کرتا نظر آیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں جنوبی افریقہ سیمی فائنل ایڈیشن میں ایونٹ میں ا سٹریلیا بنگلہ دیش فائنل میں سب سے بڑی کی تاریخ کی کپتان سری لنکا انھوں نے کے ساتھ ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کی

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف