ویمنز ورلڈ کپ، بھارتی ٹیم پہلی بار چیمپئن بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ کا 13واں ایڈیشن پاکستان ٹیم کی قسمت نہیں بدل سکا، گرین شرٹس نے کوالیفائر کے تمام میچز جیت کر جو بلند امیدیں روشن کی تھیں وہ ورلڈ کپ میں پوری نہ ہو پائیں،اسی وجہ سے کوچ محمد وسیم کو بھی برطرف کر دیا گیا۔
ایونٹ میں پاکستان کو پہلے مقابلے میں بنگلہ دیش نے 7 وکٹ سے مات دی، روایتی حریف بھارت کیخلاف 88 رنز سے شکست مقدر بنی، 248 کا ہدف پانے والی ٹیم 159 رنز پر ہمت ہارگئی ، آسٹریلیا کے ہاتھوں 107 رنز سے ناکامی ملی، جنوبی افریقہ کیخلاف ڈی ایل میتھڈ پر 150 رنز سے ہار گرین شرٹس کو ملی۔
سری لنکا، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ سے میچز بارش کی نذر ہونے پر مجموعی طور پر 3 پوائنٹس مل گئے لیکن 8 ٹیموں کے ایونٹ میں آخری پوزیشن پر ہی جگہ مل سکی، انفرادی طور پر کپتان اور آل راؤنڈر فاطمہ ثنا کی کارکردگی قابل ذکر رہی، انھوں نے 7 میچزمیں 10 وکٹیں اپنے نام کیں، یہ ٹیم میں سب سے بہترین پرفارمنس رہی، انگلینڈ کیخلاف بارش سے متاثرہ میچ میں انھوں نے 27 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔
مشترکہ میزبان بھارت نے پہلی بار ٹرافی اپنے قبضے میں کرلی، فائنل میں جنوبی افریقی ٹیم ناکام رہی ،اس دوران کئی ریکارڈز ٹوٹ گئے، نوی ممبئی میں منعقدہ فائنل میں بھارتی ٹیم 52 رنز سے فتحیاب رہی،سمرتی مندھانا نے ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ 434 رنز بنا کر ہم وطن متھالی راج کا 2017 کا ریکارڈ توڑ دیا۔ شیفالی ورما نے فائنل میں 87 رنز بنا کر ورلڈکپ فائنل میں بھارتی اوپنر کی سب سے بڑی اننگز کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا، کپتان ہرمن پریت کور نے ناک آؤٹ مرحلے میں مجموعی طور پر 331 رنز بنا کر آسٹریلیا کی بیلینڈا کلارک کو پیچھے چھوڑ دیا۔
آل راؤنڈر دیپتی شرما ورلڈکپ کی تاریخ میں کسی ایک ایڈیشن میں 200 سے زائد رنز بنانے اور 20 سے زائد وکٹیں اڑانے والی پہلی پلیئر بنیں، انھوں نے فائنل میں 58 رنز اسکور کیے اور 5 وکٹیں حاصل کیں، ریچا گھوش نے 12 چھکوں کے ساتھ ویسٹ انڈیز کی ڈینڈرا ڈوٹن کا ریکارڈ برابر کیا، بھارت کا 298 کا مجموعہ ویمنز ورلڈکپ فائنل کی تاریخ کا دوسرا بڑا اسکور قرار پایا، سمرتی مندھانا اور شیفالی ورما کے درمیان 100 رنز کی اوپننگ شراکت بھارتی ٹیم کی کسی بھی ورلڈکپ فائنل میں سب سے بڑی پارٹنرشپ ثابت ہوئی۔
رنر اپ سائیڈ جنوبی افریقہ کی کپتان لیورا وولوارڈٹ نے شاندار کارکردگی کے بعد آئی سی سی ویمنز ون ڈے بیٹنگ رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن حاصل کی، انھوں نے سیمی فائنل اور فائنل دونوں میں سنچریاں بنائیں،لیورا نے مجموعی طور پر 571 رنز بنا کر ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ رنز کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔
اس کے علاوہ ایونٹ کے دوران ہر ٹیم میں کسی ایک پلیئر نے اپنے عمدہ کھیل سے سب کو متاثر کیا۔ آسٹریلیا کی ایشلیگ گارڈنرنے 2 سنچریوں اور ایک نصف سنچری کے ساتھ 328 رنز بنائے اور 7 وکٹیں بھی اڑائیں،ان کی 69 گیندوں پر سنچری ٹورنامنٹ کی تیز ترین اننگزشمار ہوئی، انھوں نے کسی بھی بیٹر سے زیادہ 82 کی اوسط بھی پائی۔ انگلینڈ کی کپتان نیٹ اسکوایئر برنٹ نے بھی بیٹ اور بال سے عمدہ پرفارم کیا، انھوں نے 262 رنز بنائے اور 9 وکٹیں حاصل کیں، ان کی ایک سنچری اور ایک نصف سنچری ٹیم کے لیے کلیدی ثابت ہوئی۔سری لنکن کپتان چماری اتاپتو نے بھی حسب توقع ملکی ٹیم کے لیے نمایاں کھیل پیش کیا۔
انھوں نے 168 رنز بنانے کے ساتھ 5 وکٹیں بھی اپنے کھاتے میں درج کرائیں، بنگلہ دیش سے میچ میں 46 رنز بنانے کے بعد 42رنز کے عوض 4 وکٹیں اہم پرفارمنس رہی، سری لنکن ٹیم نے پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں نمبر پر اختتام کیا۔ نیوزی لینڈ کی کپتان سوفی ڈیوائن الوداعی ایونٹ میں ٹیم کو سیمی فائنل تک نہیں پہنچا پائیں، انھوں نے ایک سنچری اور 2 نصف سنچریاں بنائیں اور 4 وکٹیں حاصل کیں، یہ ورلڈ کپ ان کے ون ڈے کیریئر کا اختتام بھی رہا۔ بنگلہ دیش کی اوپنر شرمین اختر نے 2 نصف سنچریاں اسکور کیں، جنوبی افریقہ کے خلاف ففٹی اور سری لنکا کے خلاف ناقابلِ شکست 64 رنز ان کی بہترین اننگز رہیں، شرمین کی مستقل مزاجی بنگلہ دیش کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوئی۔
2025 کا ایڈیشن مجموعی طور پر بیٹرز کے لیے یادگار رہا، بھارت اور سری لنکا کی فلیٹ پچز پر ان کو صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا بھرپور موقع میسر آیا، کئی ریکارڈز ٹوٹے، نئی بلندیوں کو چھوا گیا اور ویمنز کرکٹ کی تاریخ میں نیا باب رقم ہوا، بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں چھکوں اور چوکوں کی برسات رہی، پہلی مرتبہ آسٹریلیا اور انگلینڈ فائنل سے باہر ہوئے۔
بھارت نیا چیمپئن بن کر ابھرا، جنوبی افریقہ نے بھی پہلی بار فائنل تک رسائی پائی، ایونٹ میں مجموعی طور پر 15 سنچریاں بنیں، یہ 2017 کے مقابلے میں ایک زیادہ ہے،جنوبی افریقہ کی کپتان لورا وولوارڈٹ 2 سنچریوں کے ساتھ نمایاں رہیں، ان میں سیمی فائنل میں 169 رنز کی سب سے بڑی اننگز شامل ہے۔ آسٹریلیا اور بھارت نے مل کر ویمنز کرکٹ کی تاریخ کی 2 سب سے بڑی رن چیس مکمل کیے، مجموعی طور پر8مرتبہ 300 سے زائد رنز بنائے،یہ کسی بھی ایڈیشن میں سب سے زیادہ ہیں۔
ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 133 چھکے لگے، یہ اپنے طور پر ایک نیا ریکارڈ ہے، بھارتی کھلاڑی ریچا گھوش نے 12 بلند وبالااسٹروکس کھیلے جو ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رہے۔ بھارت اور آسٹریلیا کے سیمی فائنل میں مجموعی طور پر 679 رنز بنے، یہ ورلڈ کپ تاریخ کا سب سے زیادہ اسکور ہے،آسٹریلیا کی 6 بیٹرز نے سنچریاں بنائیں جو کسی ایک ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ ہیں۔یہ ورلڈ کپ نہ صرف ریکارڈز کے لحاظ سے یادگار رہا بلکہ ویمنز کرکٹ کی ترقی، معیار اور جوش و خروش کی بہترین عکاسی بھی کرتا نظر آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں جنوبی افریقہ ایڈیشن میں سیمی فائنل ایونٹ میں بنگلہ دیش فائنل میں ا سٹریلیا سب سے بڑی کی تاریخ کی کپتان سری لنکا انھوں نے ورلڈ کپ کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔