اسلام آباد خودکش دھماکا،فتنہ الخوارج اور افغانستان کی ملی بھگت کے شواہد سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد خودکش دھماکا،فتنہ الخوارج اور افغانستان کی ملی بھگت کے شواہد سامنے آگئے WhatsAppFacebookTwitter 0 11 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) خودکش دھماکے میں فتنہ الخوارج اور افغانستان کی ملی بھگت کے شواہد سامنے آگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں خود کش دھماکے کے پیچھے افغانستان کا ہاتھ ہے، خودکش دھماکے میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج اور افغانستان کی ملی بھگت کھل کر سامنے آگئی۔ افغان طالبان رجیم پاکستان میں کھلم کھلا دہشت گردی کامرتکب ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد دھماکا لگ بھگ سہ پہر 12 بج کر 45 منٹ پر ہوا مگر افغانستان کے سوشل میڈیا اکاونٹس پرصبح سے ہی بازگشت سنائی دی جانے لگی۔6 بج کر 45 منٹ پر افغان طالبان سے منسلک ایکس اکاونٹ سے کمنگ سون اسلام آباد جیسے ٹویٹس دیکھے گئے۔ اِسی طرح کے دھمکی آمیز پیغامات افغان ملٹری پریڈ کے موقع پر بھی کیے گئے تھے، جس میں لاہور پر افغان جھنڈا لہرانے اور اسلام آباد کو جلانے کی باتیں کی گئیں۔
افغان ٹوئٹر ہینڈل آماج نیوز نے اپنی 2 نومبر کو کی جانے والی ٹویٹ میں ان دھمکی آمیز پیغامات کو پوسٹ کیا۔ طالبان کے ایک اور ایکس اکاونٹ خراسان العربی کی طرف سے اسلام آباد دھماکے کے ساتھ ہی جاری ہونے والی ٹویٹ بسم اللہ الرحمن الرحیم افغان رجیم کے گھناونے عزائم کی عکاسی کرتی ہے۔دھماکے سے قبل افغانستان سے کی جانے والی سوشل میڈیا پوسٹس اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ افغان طالبان رجیم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا۔ اسلام آباد اور دہلی میں ہونے والے دھماکے پاکستان مخالف ممالک کی ملی بھگت ہے، دھماکوں کامشترکہ مقصد پاکستان کو نقصان پہچانا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد حملے کے کرداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے، عطا تارڑ اسلام آباد حملے کے کرداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے، عطا تارڑ خلفائے راشدین بھی عدالتوں میں پیش ہوئے، صدر مملکت مستثنیٰ کیوں؟ حافظ نعیم الرحمن عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر انکی بہنوں اور کارکنوں کا اڈیالہ روڈ پر علامتی دھرنا، پولیس سے تلخ کلامی خیبر پختونخوا حکومت کا امن جرگے کا اعلامیہ وفاقی حکومت سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کو بھجوانے کا فیصلہ یہ قانون سازی نہیں، آئین اور قانون پر حملہ ہے، اس وقت پاکستان میں ایک ڈھونگ رچایا جارہا ہے،سلمان اکرم راجا اندازہ ہے افغانستان کیا کررہا ہے، دہشتگردوں کو نہ روکا تو بندوبست کرینگے، وزیرداخلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔