آئین بھٹو کی امانت‘ اسلام آباد میں بہت کچھ ہو رہا ہے: بلاول
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں حکومت سندھ کی جانب سے گندم کے کاشت کاروں کے لئے سپورٹ پروگرام برائے 2025ء کے تحت ڈی اے پی اور یوریا کی خریداری کے لئے بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے نقد رقوم کی براہ راست منتقلی کا افتتاح کردیا۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ کسان خوشحال ہوگا، تو ملک خوشحال ہوگا۔ بینظیر ہاری کارڈ ہولڈرز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پروگرام کے تحت سندھ کے ایک ایکڑ سے 25 ایکڑ کے مالک کسانوں و کاشتکاروں کی مالی معاونت کی جارہی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عالمی معاہدوں کی وجہ سے صوبائی حکومتوں کے ہاتھ باندھ دیئے گئے تھے کہ وہ گندم خرید سکتے تھے نہ سپورٹ پرائس دے سکتے تھے۔ انہوں کہا کہ میرے مطالبے پر وزیراعظم میاں شہباز شریف نے ملک میں موسمیاتی ایمرجنسی اور زرعی ایمرجنسی کا نفاذ کے ساتھ ساتھ پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں صارفین کے بجلی کے بلز معاف کیے، جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے گندم کی سپورٹ پرائس دینے اور پروکیورمینٹ کے لیے آئی ایم ایف سے بات کرنے اور اسے قائل کرکے صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے اجازت دینے پر بھی وزیراعظم کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اسلام آباد میں بہت کچھ ہورہا ہے۔ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ آئین، ذوالفقار علی بھٹو کی امانت ہے۔ انہوں نے 27 ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں ایک کمی تھی، جسے ایک بار پھر پیپلز پارٹی نے پورا کردیا۔ اسی طرح اب ملک کی آئینی عدالت میں بھی تمام صوبوں کو برابر نمائندگی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی، اس میں ججز کی اکثریت ایک صوبے سے تھی، اور باقی دوسرے صوبوں سے تھے۔ نہ صرف قائد عوام سے ناانصافی کی گئی، بلکہ اس ملک کے وفاق کو ہلا دیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔