Nawaiwaqt:
2026-07-24@01:58:22 GMT

آئین بھٹو کی امانت‘ اسلام آباد میں بہت کچھ ہو رہا ہے: بلاول

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

آئین بھٹو کی امانت‘ اسلام آباد میں بہت کچھ ہو رہا ہے: بلاول

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں حکومت سندھ کی جانب سے گندم کے کاشت کاروں کے لئے سپورٹ پروگرام برائے 2025ء کے تحت ڈی اے پی اور یوریا کی خریداری کے لئے بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے نقد رقوم کی براہ راست منتقلی کا افتتاح کردیا۔ پی پی پی چیئرمین نے  کہا کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ کسان خوشحال ہوگا، تو ملک خوشحال ہوگا۔ بینظیر ہاری کارڈ ہولڈرز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پروگرام کے تحت سندھ کے ایک ایکڑ سے 25 ایکڑ کے مالک کسانوں و کاشتکاروں کی مالی معاونت کی جارہی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عالمی معاہدوں کی وجہ سے صوبائی حکومتوں کے ہاتھ باندھ دیئے گئے تھے کہ وہ گندم خرید سکتے تھے نہ سپورٹ پرائس  دے سکتے تھے۔ انہوں کہا کہ میرے مطالبے پر وزیراعظم میاں شہباز شریف نے ملک میں موسمیاتی ایمرجنسی اور زرعی ایمرجنسی کا نفاذ کے ساتھ ساتھ پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں صارفین کے بجلی کے بلز معاف کیے، جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے گندم کی سپورٹ پرائس دینے اور پروکیورمینٹ کے لیے آئی ایم ایف سے بات کرنے اور اسے قائل کرکے صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے اجازت دینے پر بھی وزیراعظم کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اسلام آباد میں بہت کچھ ہورہا ہے۔ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ آئین، ذوالفقار علی بھٹو کی امانت ہے۔ انہوں نے 27 ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں ایک کمی تھی، جسے ایک بار پھر  پیپلز پارٹی نے پورا کردیا۔ اسی طرح اب ملک کی آئینی عدالت میں بھی تمام صوبوں کو برابر نمائندگی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ  ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی، اس میں ججز کی اکثریت ایک صوبے سے تھی، اور باقی دوسرے صوبوں سے تھے۔ نہ صرف قائد عوام سے ناانصافی کی گئی، بلکہ اس ملک کے وفاق کو ہلا دیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن