Jasarat News:
2026-07-24@03:51:14 GMT

نفرت اور محبت

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251111-03-4

 

غزالہ عزیز

لوگ حیران ہوتے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان اتحاد کب قائم ہوا وہ بھی اتنا گہرا کہ امریکا اپنا امیج، اپنا فائدہ دونوں کی پروا نہ کرے دنیا میں اٹھتے نفرت کے طوفان کو نظر انداز کر دے۔ آپ کا کیا خیال ہے اسرائیل کی غزہ میں درندگی، قتل و غارت گری اور نسل کشی میں امریکا کی پشت پناہی دنیا کو نظر نہیں آرہی؟؟ سب جانتے ہیں بس بولتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ نفرت جو اسرائیل کے لیے ہے وہ امریکا کے لیے بھی موجود ہے اظہار کرتے خوف کھاتے ہیں۔

 

امریکا اسرائیل اتحاد کی کم از کم پچاس سالہ طویل تاریخ ہے اور یہ اتحاد قائم کرنے میں سب سے زیادہ جو کردار تھا وہ اسرائیل کی سابق وزیراعظم گولڈا میئر کا تھا اگرچہ وہ اس وقت وزیر خارجہ تھی لیکن انہوں نے اس بات کے لیے اقوام متحدہ کو تیار کیا کہ اسرائیل کی آواز کو سنا جائے اور مانا جائے انہوں نے امریکا کو اس وقت یعنی1956 میں اسرائیل کو ہتھیار فروخت کرنے پر بھی راضی کیا اگر چہ ان کے درمیان اس وقت اتنی قربت نہیں تھی لیکن گولڈا مئیر ایک ایسی شخصیت تھیں جنہوں نے اسرائیل کو 1967 میں چھے دن کی جنگ میں اسرائیلی کو شاندار عسکری کامیابی دلائی لیکن چونکہ جنگ میں اسرائیل کے 2700 فوجی ہلاک ہوئے تھے لہٰذا اس جنگ کو گولڈن مئیر کی ناکامی کے طور پر دیکھا گیا انہوں نے جنگ کے بعد وزیراعظم کے عہدے سے استعفا دے دیا وجہ اتنی بڑی تعداد میں اسرائیلی سپاہیوں کی ہلاکت تھی وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اس بات کو سنجیدہ نہیں لیا کہ مصر اور شام حملہ کریں گے حالانکہ انہیں اردن کے بادشاہ کی جانب سے مطلع کیا جا چکا تھا انہوں نے اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنٹوں کی بات پر اعتبار تھا جنہوں نے اس کو سنجیدہ خطرہ قرار نہیں دیا تھا مگر جب شام اور مصر نے ایک ساتھ اسرائیل پہ حملہ کیا تو اسرائیلی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد اس جنگ میں ہلاک ہوئی جس کی وجہ سے اسرائیل کی شاندار عسکری کامیابی نے گولڈن مئیر کو سیاسی طور پر مضبوط نہیں بلکہ کمزور بنایا بہت سے اسرائیلی اسی وجہ سے انہیں اسرائیل کی تاریخ کا بدترین وزیراعظم قرار دیتے ہیں۔

 

پچھلے دنوں گولڈا مئیر کے پوتے نے اسرائیل کی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ جنگ کے بعد سابق وزیراعظم کے لیے خاص طور پر ان کے حامیوں کی طرف سے گولڈا مئیر کے ساتھ نفرت اور ان کے حامیوں کے ساتھ نفرت میں عورت سے نفرت ایک سخت نا انصافی تھی یعنی ان کا عورت ہونا اگر چہ انہوں نے ریاست کے لیے انتہائی بنیادی اور اہم کردار ادا کیا لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ اسرائیلی ریاست کے قیام کے دوسرے پہلو پر غور کرنے میں ناکام اور نا اہل تھیں اور اسی لیے فلسطینیوں کو وہاں سے نکلنا پڑا یہ دوسرا پہلو کیا تھا یہ دوسرا پہلو فلسطینیوں کی وہاں موجودگی تھی جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ فلسطینی ریاست میں ایک آزاد فلسطینی عوام کب تھے ایسا نہیں تھا کہ فلسطین میں کوئی فلسطین تھا جو اپنے آپ کو فلسطینی قوم سمجھتا تھا اور ہم نے آکر انہیں باہر نکال دیا اور ان کا ملک چھین لیا وہ یہاں موجود ہی نہیں تھے ان کی یہ بات اور اسرائیل کی تخلیق اس بات کی علامت ہے کہ فلسطینیوں کی شناخت کو نظر انداز کیا گیا، مسلم امہ خاص طور سے عرب خاموش رہے بلکہ اسرائیل کو مدد دی جو آج بھی اسی طرح ہے لیکن آج ساری دنیا دیکھ رہی ہے سمجھ رہی ہے اور مظلوم کا ساتھ دینے کے لیے یکجا بھی ہے آج سوشل میڈیا عوام کو سچ بتانے اور سمجھانے کے لیے بہت اہم ہے۔

 

گولڈا مئیر کے یہ جملے اگر آج بولے گئے ہوتے تو سوشل میڈیا پر ایک طوفان اٹھا دینے میں کامیاب ہو جاتے آج سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں ہے اور نہ کیا جا سکتا ہے لوگوں کا روایتی میڈیا کی نسبت سوشل میڈیا پر اعتبار بڑھ گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ان کے دسترس میں ہے یہاں وہ کسی سے کسی بھی وقت سوال کر سکتے ہیں ثبوت مانگ سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ بات کرنے والا کتنا معتبر اور اس کی بات میں کس قدر وزن ہے لہٰذا دنیا بھر کے اور پاکستان کے عوام کے لیے سوشل میڈیا خصوصاً ٹویٹر ایک نئی طاقت اور ایک نیا ہتھیار ہے۔

 

غزالہ عزیز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں اسرائیل سوشل میڈیا اسرائیل کی انہوں نے اور اس کے لیے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف