کمشنر کراچی تاجروں اور کراچی چیمبر کو آن بورڈ لیں، محبوب اعظم
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251111-08-7
کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے مرکزی جنرل سیکرٹری محبوب اعظم نے کراچی میں تجاوزات کے نام پر بیروزگاری آپریشن کی پر زور مذمت کی ہے اور اسے تاجروں کا معاشی قتل عام قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم بھی تجاوزات کے حق میں نہیں مگر تجاوزات کے نام پر تاجروں کو بیروزگار نہیں ہونے دیں گے۔ وہ آج اسمال ٹریڈرز کے دفترمیں تاجر رہنماؤں سے خطاب کر رہے تھے ۔اجلاس سے اسمال ٹریڈرز کراچی کے صدر محمود حامد، سینئر نائب صدر سید لیاقت علی، پاکستان کنفیکشنری ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید حاجی عبداللہ، الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن ایم اے جناح روڈ کے صدر سید نوید احمد، کراچی اسپورٹس مارکیٹ کے صدر سلیم ملک، انجمن تاجران قائد آباد کے رہنما شوکت ربانی، واٹر پمپ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے رہنما عارف اسماعیل، لیاقت آباد ٹریڈرز الائنس کے رہنما محمد اکرم قریشی، گلشن اقبال ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر جاوید اختر اور دیگر نے خطاب کیا ۔اسمال ٹریڈرز کے رہنما محبوب اعظم نے کمشنر کراچی سے اپیل کی کہ وہ اس آپریشن کو بند کرائیں اور تاجروں کو بے روزگار ہونے سے بچائیں انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی چھوٹے تاجروں اور کراچی چیمبر کو آن بورڈ لیں تاکہ اتفاق رائے سے تجاوزات کا خاتمہ ہوسکے، جس میں تاجر بھی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں گے۔ اسمال ٹریڈرز کراچی کے صدر محمود حامد نے کہا کہ قومی خزانے کو 70 فیصد ریونیو دینے والے شہر کے تاجر اس وقت معاشی طور پر تباہی کا شکار ہیں ،عوام کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے اور غیر یقینی حالات کی وجہ سے بعض تاجروں کی بسم اللہ بھی نہیں ہوتی ہے ،دوسری جانب شہریوں سے کروڑوں روپے کے ایم سی میونسپل ٹیکس کی وصولی کے باوجود انھیں کو سہولت نہیں دے رہی، پورا شہر کھنڈر بنا ہوا ہے ،ایسی صورتحال میں تجاوزات کا نام لے کے دکانوں پر بلڈوزر چلانا ان کے ترازو بانٹ اور دیگر سامان چھین لیناظلم کے مترادف ہے، ہم قانون پسند شہری ہیں لیکن ظلم کو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کراچی چیمبر اور انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے اور اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر راشی اہلکاروں نے اپنا رویہ درست نہ کیا تو پھر ہم بھرپور احتجاج کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسمال ٹریڈرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ کے رہنما کے صدر
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔