عدالت میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی گروپ میں فائرنگ، 4 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251111-08-5
ڈیرہ اسماعیل خان (صباح نیوز)تھانہ کینٹ کی حدود جوڈیشل کمپلیکس میں ایڈیشنل سیشن جج 4 میں فوجداری مقدمہ کی پیروی کی تاریخ پیشی کے موقع پر جے یوآئی کے تحصیل امیر کفیل احمد نظامی اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سہیل راجپوت کے گروپوں میں ہاتھاپائی کے بعد فائرنگ ہوگئی، جس کے نتیجے میں کفیل احمد نظامی بال بال بچ گئے جبکہ ان کے 3بھائی نوید احمد نظامی، عدنان نظامی اور احسن نظامی شدید زخمی ہوگئے جبکہ سہیل راجپورت گروپ کی جانب اسلم زخمی ہوگئے، فائرنگ کے واقعہ کے بعد ہر طرف بھگدڑ مچ گئی، بعد میں مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا، پولیس نے مذکورہ واقعہ کی رپورٹ کفیل احمد نظامی ولد حاجی امام دین کی جانب سے درج کرلی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔