ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے شوق نے 12 سالہ طالب علم کی جان لے لی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
مریدکے:
کالاشاہ کاکو کے علاقے رتہ گجراں میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 12 سالہ طالب علم عبدالہادی اپنے والد کے پسٹل سے ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے گولی کا شکار ہوگیا۔
گولی لگنے کے نتیجے میں طالب علم کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی۔
پولیس کے مطابق عبدالہادی اپنے گھر کے اندر اپنے والد کے پسٹل سے ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہا تھا کہ اچانک پسٹل چل گیا جس سے گولی اس کے جسم میں لگ گئی۔
گولی کی آواز سن کر گھر والوں میں کہرام مچ گیا اور فوری طور پر عبدالہادی کو زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ دم توڑ گیا۔
پولیس نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے طالب علم کی شناخت 12 سالہ عبدالہادی کے نام سے ہوئی ہے وہ اپنے خاندان کے ساتھ اپنے گھر میں موجود تھا جب یہ حادثہ پیش آیا۔
پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے لیا اور تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ حادثاتی طور پر پیش آیا تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس حادثے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
گھر والوں نے بتایا کہ عبدالہادی ویڈیو بنانے کے شوق میں والد کے پسٹل کو استعمال کر رہا تھا جس کے دوران پسٹل چل گیا اور یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔