کانگریس لیڈر نے کہا کہ موٹیہاری-شیوہر-سیتامڑھی ریلوے لائن منصوبہ، جس کا عوام کئی برسوں سے مطالبہ کررہے تھے، مرکزی حکومت نے کم ٹریفک کے بہانے سے منسوخ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر جے رام رمیش نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے بہار ریاست کے دورے سے قبل ایکس پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے کے 20 سالہ دورِ حکومت کے باوجود وزیر اعظم جب بہار کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں ہیں تو انہیں صرف بندوق، سِکسر اور گولی یاد آتی ہے لیکن ریاست کی ترقی کے نام پر ان کے پاس صرف جھوٹے وعدے اور فریب ہیں۔ جے رام رمیش نے کہا کہ آج وزیراعظم سیتامڑھی اور بیتیّا پہنچنے والے ہیں، ایسے میں بہار کے ساتھ ہوئے امتیاز اور نظراندازی پر وہ ان سے تین سیدھے سوال پوچھنا چاہتے ہیں۔ پہلا سوال انہوں نے ٹیکسٹائل صنعت سے متعلق کیا۔

جے رام رمیش نے یاد دلایا کہ 2021ء میں مرکز نے پردھان منتری مِتر اسکیم کے تحت 7 میگا ٹیکسٹائل پارک بنانے کا اعلان کیا تھا مگر مئی 2023ء میں جب ریاستوں کا انتخاب ہوا تو بہار کا نام اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔ ان کے مطابق کپڑا وزیر گریراج سنگھ خود بہار سے ہیں لیکن وہ اپنے ہی صوبے کے لئے ایک بھی پارک نہیں لا سکے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ انتخابی وعدوں میں مِتھلا ٹیکسٹائل پارک اور انگ سلک پارک کے ذریعے بہار کو ٹیکسٹائل حب بنانے کی بات کی گئی تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ وزارتِ کپڑا نے پارلیمنٹ میں واضح کیا ہے کہ بہار سے کوئی تجویز منظور نہیں ہوئی اور 2027ء تک ایسی کوئی اسکیم زیر غور نہیں۔ دوسرا سوال مذہبی اور ثقافتی پہلو سے جڑا ہے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ 2017ء میں راجیہ سبھا میں مرکز کی بی جے پی حکومت نے خود یہ بیان دیا کہ ماتا سیتا کے سیتامڑھی میں جنم لینے کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ بیان بہار کی عقیدت اور مِتھلا کی شناخت کی توہین تھی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے 2011ء سے 2013ء کے درمیان "رامائن سرکٹ" کے تحت سیتامڑھی اور پُنورا دھام جیسے مقامات کو فروغ دینے کی پہل کی تھی لیکن موجودہ حکومت کے دور میں پرشاد اور سودیش درشن اسکیموں کے تحت سیتامڑھی کے لئے ایک روپیہ بھی مختص نہیں کیا گیا۔ جے رام رمیش نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم آج سیتامڑھی کی مقدس سرزمین پر آنے سے پہلے اس توہین پر عوامی معافی مانگیں گے۔

تیسرا سوال انہوں نے ریلوے پروجیکٹ سے متعلق اٹھایا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ موٹیہاری-شیوہر-سیتامڑھی ریلوے لائن منصوبہ، جس کا عوام کئی برسوں سے مطالبہ کر رہے تھے، مرکزی حکومت نے کم ٹریفک کے بہانے سے منسوخ کر دیا۔ ان کے مطابق یہ علاقہ مذہبی و ثقافتی اعتبار سے اہم اور بین الاقوامی سرحد سے متصل ہے، ایسے میں اس منصوبے کو کم ترجیح کیوں دی گئی۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ بہار کے عوام پچھلے بیس برسوں سے بی جے پی-جے ڈی یو کی "ٹرپل انجن" حکومت کے جھوٹے وعدوں اور امتیازی رویے کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار بہار کی عوام تبدیلی کے لئے ووٹ دے گی اور این ڈی اے کو اقتدار سے بے دخل کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت نے

پڑھیں:

بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر میں اہلکار کی اندھا دھند فائرنگ، 2 اہلکار ہلاک، تیسرے کی حالت نازک

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے سیکٹر ہیڈکوارٹر میں ایک اہلکار کی فائرنگ سے 2 اہلکار ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ فائرنگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس  کے مطابق یہ واقعہ ضلع مالدہ کے 17 مائل سیکٹر ہیڈکوارٹر میں پیش آیا، جہاں بی ایس ایف کی 119ویں اور 71ویں بٹالین کے ہیڈکوارٹر قائم ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق 119ویں بٹالین سے تعلق رکھنے والے اہلکار شیوم مشرا نے آرام کرنے والے 71ویں بٹالین کے اہلکاروں پر اچانک اپنی سرکاری رائفل سے فائرنگ کر دی، جس سے کیمپ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

فائرنگ کے نتیجے میں 71ویں بٹالین کے 51 سالہ اجے کمار سنگھ، جو بھارتی ریاست بہار کے رہائشی تھے، اور 37 سالہ امباداس سریش درگو، جن کا تعلق مہاراشٹر سے تھا، موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کے ساتھی وکاس ورما شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

واقعے کے فوراً بعد بی ایس ایف کے اہلکاروں نے ملزم شیوم مشرا، جو ریاست چھتیس گڑھ کا رہائشی ہے، کو حراست میں لے لیا۔

حکام کے مطابق ابتدائی طور پر فائرنگ کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ بی ایس ایف نے واقعے کی اندرونی انکوائری شروع کر دی ہے، جبکہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا واقعہ کسی ذاتی تنازع، ذہنی دباؤ یا دیگر عوامل کا نتیجہ تھا۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ذہنی دباؤ، طویل ڈیوٹی اوقات، اندرونی تنازعات اور ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ  جیسے واقعات متعدد بار رپورٹ ہو چکے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات فورسز میں نفسیاتی دباؤ اور فلاحی نظام سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کرتے ہیں، جس کے باعث اہلکاروں کی ذہنی صحت اور پیشہ ورانہ معاونت کے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر میں اہلکار کی اندھا دھند فائرنگ، 2 اہلکار ہلاک، تیسرے کی حالت نازک
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت