بہار الیکشن کمیشن نے ایک خط جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں حتمی ووٹر ٹرن آؤٹ %65.08 تھا۔ اسلام ٹائمز۔ بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے ووٹر ٹرن آؤٹ کے نئے اعداد و شمار جاری کر دئے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں 18 اضلاع کی 121 نشستوں پر کل 65.

08 فیصد ووٹ ڈالے گئے جو کہ ایک ریکارڈ ٹرن آؤٹ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بہار کے مظفر پور ضلع میں سب سے زیادہ 71.81 فیصد ووٹ ڈالے گئے، جب کہ پٹنہ ضلع میں سب سے کم 59.02 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ بہار کی انتخابی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ ووٹنگ ہے۔ بہار الیکشن کمیشن نے ایک خط جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں حتمی ووٹر ٹرن آؤٹ %65.08 تھا۔ پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ 6 نومبر 2025ء کو ہوئی تھی، بہار کے 18 اضلاع میں 121 اسمبلی حلقوں میں بہار کی عام اسمبلی ووٹنگ کی اوسط 20 فیصد تھی۔ انتخابات %57.29 تھے اور 2024ء کے لوک سبھا عام انتخابات میں %56.28 تھے۔

پہلے مرحلے میں 121 اسمبلی سیٹوں میں سے کسی پر بھی کسی امیدوار یا سیاسی پارٹی کی طرف سے کوئی شکایت درج نہیں کی گئی اور نہ ہی دوبارہ پولنگ کا کوئی مطالبہ کیا گیا۔ بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 121 سیٹوں پر 65.08 فیصد کی اوسط ووٹنگ نے تمام سیاسی پارٹیوں کو جوش سے بھر دیا ہے۔ 2020ء کے مقابلے میں اس اضافے نے ہر کیمپ کے اس دعوے کو تقویت بخشی ہے کہ عوام نے انہیں نوازا ہے۔ الیکشن کمیشن کے سرکاری اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کئی اضلاع میں ووٹنگ نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئے۔ مظفر پور 71.41 فیصد ووٹروں کے ساتھ سب سے اوپر ہے۔

جب کہ کچھ علاقوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زیادہ دیکھا گیا، پچھلے انتخابات سے نمایاں فرق تھا۔ دربھنگہ اور مونگیر میں 63.5 فیصد، سارن میں 63.63 فیصد اور سیوان میں 60.31 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے۔ ان علاقوں میں بھی 10-8 فیصد اضافہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ووٹرز اس بار پوری طرح باخبر تھے۔ 65 فیصد سے زیادہ ووٹروں کا ٹرن آؤٹ عام طور پر اقتدار مخالف کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن بہار میں زمینی حقیقت ہمیشہ مختلف رہی ہے۔ 122 سیٹوں کے دوسرے مرحلے کے لئے ووٹنگ 11 نومبر کو ہونے والی ہے۔ تمام جماعتیں اپنے اپنے سروے جاری کر رہی ہیں تاہم عوام کس کا انتخاب کریں گے اس کا حتمی فیصلہ 14 نومبر کو ہو گا۔ تب تک صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ بہار کے لوگوں نے جس جوش و خروش کے ساتھ ووٹ دیا اس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے کھڑے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انتخابات کے پہلے مرحلے میں الیکشن کمیشن ووٹر ٹرن آؤٹ سے زیادہ کے لئے

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں آزاد کشمیر کے 33 علاقائی حلقوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی مہم جاری، نواز شریف کے دورہ میرپور کا اعلان

لاہور ڈویژن میں مہاجرین کے لیے قائم 2 انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوگی جہاں ہزاروں رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

لاہور ڈویژن میں حلقہ ایل اے 34 جموں 1 اور حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 کے لیے پولنگ ہوگی۔ ان حلقوں میں ضلع لاہور، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب میں مقیم اہل کشمیری مہاجرین ووٹ ڈالنے کے مجاز ہیں۔

حلقہ ایل اے 34 جموں ون جموں سے تعلق رکھنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہے جبکہ ایل اے 41 وادی کشمیر ٹو وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہے۔

کتنے ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے؟

پاکستان بھر میں قائم مہاجرین کی 12 نشستوں پر مجموعی طور پر 4 لاکھ 38 ہزار 596 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

وادی کشمیر کے حلقوں میں ووٹرز کی تعداد نسبتاً کم ہے جبکہ جموں کے حلقوں میں ووٹرز زیادہ ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے مطابق وادی کشمیر کے متعلقہ حلقے میں تقریباً 5 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ تھے اور نئی ووٹر فہرستوں کے بعد بھی اس تعداد میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔

مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی نے 35 حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے

الیکشن کمیشن نے لاہور ڈویژن کے دونوں حلقوں کے لیے مختلف مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں تاکہ ووٹرز آسانی سے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں۔

رپورٹ کے مطابق ایل اے 34 کا دائرہ زیادہ تر لاہور کے اندرون علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ ایل اے 41 میں گلبرگ سمیت لاہور کے بعض اندرون شہر کے علاقے شامل ہیں۔

کن امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا؟

حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد امیر شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام عباس میر اور استحکام پاکستان پارٹی کے سعید احمد ڈار اہم امیدوار ہیں۔

دوسری جانب ایل اے 34 جموں ون میں مسلم لیگ (ن) کے ناصر احمد ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے کرنل (ر) قدیر چوہان اور استحکام پاکستان پارٹی کے بلال بٹ مدمقابل ہیں۔

مزید پڑھیں : عام انتخابات: آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت تیز، نواز شریف اور بلاول بھٹو بھی میدان سجانے کو تیار

ان حلقوں میں متعدد آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔

کس جماعت کے درمیان اصل مقابلہ؟

سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات میں اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، حالانکہ 2021 کے انتخابات کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت تحریک انصاف ہی کی قائم ہوئی تھی۔

انتخابی مہم عروج پر

آزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور خواجہ سعد رفیق مختلف جلسوں اور انتخابی سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔

ادھر استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار بھی ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: پی ٹی آئی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا، 27 جولائی کو اس کا فائدہ کس پارٹی کو ہوگا؟

اب تمام نظریں 27 جولائی پر مرکوز ہیں جب ووٹرز اپنے فیصلے سے یہ طے کریں گے کہ ان حلقوں میں کامیابی کس جماعت کے حصے میں آتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر انتخابات کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں لاہور ڈویژن

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • ایشین گیمز 2026 :کرکٹ مقابلوں کے شیڈول اور گروپس کا اعلان
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن