بھارتی ریاست بہار میں اسمبلی انتخابات کا آغاز، پہلے مرحلے میں 28 فیصد ووٹنگ مکمل
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
بھارتی ریاست بہارکی اسمبلی کے اہم اور فیصلہ کن انتخابات جمعرات کے روز شروع ہوگئے ہیں، جہاں پہلے مرحلے میں صبح 11 بجے تک تقریباً 28 فیصد ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
ریاست کی 243 نشستوں میں سے 121 پر ووٹنگ جاری ہے، جو حکمران اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور دوبارہ اُبھرنے والے مہاگٹھ بندھن کے درمیان سخت مقابلے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
VOTE CHORI ALERT ????????
Approximately 8 million voters are missing in Bihar after the SIR, and the Election Commission claims the election will be fair.
The Election Commission has prepared the ground for a BJP victory.
– @_YogendraYadav pic.twitter.com/BzeOAqQtY5
— Ravinder Kapur. (@RavinderKapur2) November 1, 2025
پہلے مرحلے میں کئی وزرا کے ساتھ ساتھ راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو اور ان کے علیحدہ ہونے والے بھائی تیج پرتاپ یادو کی قسمت کا فیصلہ بھی بیلٹ باکس میں بند ہو جائے گا۔
انتخابی حکمتِ عملی ساز سے سیاست دان بننے والے پرشانت کشور کی پارٹی ’جن سوراج‘ کو اس مقابلے کا ’ایکس فیکٹر‘ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے انتخابی ماحول میں مزید دلچسپی اور غیر یقینی پیدا کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی انتخابات میں برازیلی خاتون نے سیما، سویٹی، سرسوتی، رشمی اور ولما کے نام سے 22 ووٹ ڈالے، اہم انکشاف
الیکشن حکام کے مطابق بیگوسرائے ضلع میں سب سے زیادہ 30.37 فیصد ووٹنگ ہوئی، جب کہ پٹنہ میں سب سے کم 23.71 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ضلع پٹنہ میں واقع اپنے آبائی شہر بختیارپور میں ووٹ ڈالا، جہاں وہ بطور ووٹر رجسٹرڈ ہیں۔ ان کے والد، مرحوم کوی راج رام لچھن سنگھ، اسی علاقے میں آیورویدک معالج تھے۔
نتیش کمار نے ووٹ ڈالنے کے بعد عوام سے اپیل کی کہ جمہوریت میں ووٹ دینا صرف ہمارا حق نہیں، بلکہ ہماری ذمہ داری بھی ہے۔
’بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ جاری ہے، تمام ووٹرز سے گزارش ہے کہ اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ پہلے ووٹ دیں، بعد میں ناشتہ کریں۔‘
مزید پڑھیں:بھارتی صحافی رعنا ایوب اور ان کے والد کو قتل کی دھمکیاں موصول
انہوں نے ووٹ ڈالنے کے بعد سیاہی لگی انگلی میڈیا کے نمائندوں کو دکھائی، جو پولنگ اسٹیشن کے باہر اس لمحے کو محفوظ کرنے کے لیے موجود تھے۔
دوسری جانب راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو، ان کی اہلیہ رابڑی دیوی، چھوٹے بیٹے تیجسوی پرساد یادو، اور بہو راجشری یادو نے بھی پٹنہ میں اپنے ووٹ ڈالے۔
مزید پڑھیں: بھارتی جعلی سائنسدان کا ایران کو ایٹمی منصوبہ فروخت کرنے کی کوشش کا انکشاف
لالو پرساد یادو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ توے پر روٹی پلٹتے رہنی چاہیے، ورنہ جل جائے گی۔
’بیس سال بہت ہو گئے۔ اب نوجوان حکومت اور نئے بہار کے لیے تیجسوی کی حکومت ناگزیر ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتخابی ماحول ایکس فیکٹر بھارتی ریاست بہار بیلٹ باکس حکمت عملی حکمراں اتحاد مہاگٹھ بندھن نیشنل ڈیموکریٹک الائنس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتخابی ماحول ایکس فیکٹر بھارتی ریاست بہار بیلٹ باکس حکمت عملی حکمراں اتحاد پہلے مرحلے نے ووٹ
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔