صدر آصف زرداری سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات،27ویں آئینی ترمیم پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کی، جس میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بلاول ہاؤس کراچی میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم سمیت ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فریقین نے حالیہ سیاسی معاملات پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا اور پارلیمانی امور سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی بات چیت کی، ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بلاول زرداری صدر آصف علی زداری کراچی ملاقات مولانا فضل الرحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلاول زرداری صدر ا صف علی زداری کراچی ملاقات مولانا فضل الرحمان
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔