پی ٹی آئی کی جے یو آئی کو امن جرگے میں شرکت کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کو امن جرگے میں شرکت کی دعوت دے دی۔
پی ٹی آئی کا وفد پشاور میں جے یو آئی کے سیکریٹریٹ پہنچا اور پارٹی کی قیادت کو جنید اکبر کا خط دیا۔
اس موقع پر جے یو آئی کے سینیٹر مولانا عطا الحق اور پی ٹی آئی کے صوبائی رہنما علی اصغر نے میڈیا سے گفتگو کی۔
مولانا عطا الحق کا کہنا تھا کہ امن جرگہ سے متعلق پی ٹی آئی کے عزم کو سراہتے ہیں، جرگہ ہمارے صوبے کی روایت ہے، صوبائی شوریٰ کا اجلاس بلا کر مشاورت سے فیصلہ کریں گے۔
علی اصغر نے کہا کہ جے یو آئی کی قیادت کو جنید اکبر کا خط دیا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پرعزم ہیں کہ سب کی مشاورت سے آگے بڑھا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جے یو ا ئی پی ٹی ا ئی ا ئی کے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔