کراچی؛ گلبرگ میں ہوائی فائرنگ سے بچے کی ہلاکت، ملزم اور اس کا معاون ساتھی گرفتار، اسلحہ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
کراچی:
گلبرگ پولیس نے ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں کمسن بچے کی ہلاکت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کے الزام میں ملزم اور معاونت فراہم کرنے والے شخص کو بھی گرفتار کرلیا ، پولیس نے فائرنگ کرنے والے ملزم کے قبضے اسلحہ بھی برآمد کرلیا۔
اس حوالے سے ترجمان ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس کے جاری اعلامیے کے مطابق جمعے کی شب گلبرگ تھانے کی حدود گجر نالے کچی آبادی میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں 8 سالہ مہتاب ولد عطا حسن نامی لڑکا جاں بحق ہوا تھا جس کی ابتدائی اطلاعات ایم ایل او عباسی شہید اسپتال کی جانب سے موصول ہوئیں کہ ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں ایک بچے کی موت واقع ہوئی ہے جس پر ایس ایچ او گلبرگ پولیس پارٹی کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ فائر کی گئی گولی پہلے مکان کے مرکزی دروازے کو چیرتی ہوئی کمرے کے دروازے سے گزرتے ہوئے بچے کے کندھے میں لگی جو موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
ترجمان کے مطابق گلبرگ پولیس کی جانب سے موقع پر موجود افراد سے معلومات حاصل کرنے پر انکشاف ہوا کہ گجر نالہ کے دوسری جانب جو حیدری مارکیٹ تھانے کی حدود میں آتا ہے وہاں پر کراچی بچاؤ آفس میں میوزک بجانے کے دوران فائرنگ کی گئی تھی جبکہ مذکورہ آفس عارف شاہ نامی شخص چلاتا ہے جو محتسب کے دفتر میں ملازم ہے۔
ترجمان کے مطابق واقعے کے بعد قریبی پانی کی دکان کے مالک اعجاز نے عارف شاہ کو اطلاع دی کہ فائرنگ سے ایک بچہ جاں بحق ہوگیا ہے جس پر عارف شاہ ، زہیر اور 2 نامعلوم افراد نے دفتر بند کیا اور موقع سے فرار ہوگئے، تاہم گلبرگ پولیس نے دکاندار اعجاز کو حراست میں لیکر اس کی نشاندہی پر فائرنگ کرنے والے ملزم عارف شاہ کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کرلیا، پولیس نے اعجاز کو ملزمان کی مدد اور فراری میں معاونت کے الزام میں بھی گرفتار کرلیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش اور گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
واقعے کے بعد جائے وقوعہ سے کرائم سین یونٹ کو بھی طلب کر کے شواہد حاصل کیے گئے ہیں اور اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گلبرگ پولیس فائرنگ کے پولیس نے عارف شاہ
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک