ترک صدر کی شہباز شریف سے ملاقات، پاک افغان جنگ بندی اور غزہ میں استحکام پر زور
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
باکو : ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ختم کرکے جنگ بندی کے عمل کو برقرار رکھنا خطے کے امن کے لیے نہایت اہم ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترک صدر نے کہا کہ ترکیہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں اور پاک افغان سرحدی تناؤ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور دونوں ممالک کے درمیان استحکام کے لیے جاری مذاکرات کو مثبت سمت میں آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات سے دیرپا امن اور باہمی اعتماد کی راہ ہموار ہوگی۔
ترک صدر نے اس موقع پر پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا، خاص طور پر تجارت، توانائی اور دفاعی صنعت میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔
اردوان نے مزید کہا کہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری نہ صرف خطے کی ترقی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
غزہ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ جنگ بندی کے عمل کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے آذربائیجان کی یومِ فتح کی تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے فوجی پریڈ بھی دیکھی۔ اس تقریب میں مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور آذربائیجان کی کامیابیوں کو سراہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے درمیان کے لیے کہا کہ کہ ترک
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔