بلبل صحرا گلوکارہ ریشماں کو مداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
لاہور (نیوزڈیسک) معروف فوک گلوکارہ ریشماں کو مداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے،’’ بُلبلِ صحرا‘‘ کے گائے گیتوں کا سحر آج بھی برقرار ہے۔
گلِ صحرائی اور لمبی جدائی، معروف لوک گلوکارہ ریشماں 1947ء میں راجستھان میں پیدا ہوئیں، برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی منتقل ہوگیا، خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھنے والی ریشماں نے کم عمری میں ہی صوفیانہ کلام گانا شروع کر دیا۔
ریشماں نے کلاسیکی موسیقی کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی، ریڈیو کے ایک پروڈیوسر سلیم گیلانی نے لعل شہباز قلندر کے مزار پر ننھی ریشماں کو گاتے ہوئے سنا، 12 سال کی عمر میں ریشماں کو ریڈیو پاکستان پر آواز کا جادو جگانے کا موقع ملا۔
1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشماں نے ٹی وی کیلئے گانا شروع کر دیا، انہوں نے پاکستانی فلموں کیلئے متعدد گیت گائے اور خوب شہرت سمیٹی، ریشماں کی مقبولیت سرحد پار بھی پہنچی اور بالی ووڈ میں یہ سحر انگیز آواز گونجی۔
معروف فوک گلوکارہ کے مشہور گیتوں میں ’’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک‘‘، ’’وے میں چوری چوری‘‘، ’’اکھیاں نوں رین دے اکھیاں دے کول کول‘‘، ’’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘‘، ’’عاشقاں دی گلی وچ مقام دے گیا‘‘ شامل ہیں۔
ریشماں کو ستارہ امتیازاور لیجنڈز آف پاکستان کے اعزاز سے بھی نوازا گیا، لوک گلوکارہ 3 نومبر 2013ء میں گلے کے سرطان کے باعث لاہور میں انتقال کر گئی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ریشماں کو
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔