معروف صحافی مشرف زیدی وزیراعظم کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مقرر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے معروف صحافی اور پالیسی تجزیہ کار مشرف زیدی کو غیر ملکی میڈیا کے لیے اپنا ترجمان مقرر کردیا۔ یہ تقرری فوری طور پر عمل میں لائی گئی ہے اور اگلے احکامات تک برقرار رہے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ’ایکس‘ پر مشرف زیدی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔
Many congratulations @mosharrafzaidi
Welcome on board brother.
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) November 2, 2025
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعظم کے 4 جون کے سابق احکامات اور کابینہ ڈویژن کے 10 جون کے سرکلر کو منسوخ کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دستاویز میں وزارت اطلاعات و نشریات اور کابینہ ڈویژن کو متعلقہ امور نمٹانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے اپنی پوسٹ میں مشرف زیدی کو ٹیم میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہاکہ گزشتہ چند ماہ ان کے ساتھ کام کرنا خوشگوار تجربہ رہا، اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ ٹیم ورک جاری رہے گا۔
مشرف زیدی اس وقت وزیراعظم کے سرکاری کارکردگی اور اختراعات کے کوآرڈینیٹر کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
مشرف زیدی نے لمز سے اکنامکس میں بی ایس سی آنرز اور نیویارک کے بارک کالج سے پالیسی تجزیہ اور نان پرافٹ مینجمنٹ میں ماسٹر آف پبلک ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کی۔
وہ 2011 سے 2013 تک وزارت خارجہ میں بطور پالیسی مشیر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ بعد ازاں، 2013 سے 2018 تک وہ الف اعلان کے کیمپین ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو رہے۔
2018 میں مشرف زیدی نے اسلام آباد میں تھنک ٹینک ’تبادلہ‘ قائم کیا اور جون 2025 تک ادارے کے سی ای او کے طور پر خدمات انجام دیں، جبکہ بعد ازاں اگست تک سینیئر فیلو بھی رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ترجمان مقرر شہباز شریف عطااللہ تارڑ غیرملکی میڈیا مشرف زیدی معروف صحافی وزیر اطلاعات وزیراعظم پاکستان وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہباز شریف عطااللہ تارڑ غیرملکی میڈیا معروف صحافی وزیر اطلاعات وزیراعظم پاکستان وی نیوز
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔