امریکا، جاپان میں معدنی وسائل کے تبادلے کا معاہدہ مکمل
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹوکیو: امریکا اور جاپان کے درمیان نایاب اور اہم معدنیات کی فراہمی سے متعلق ایک تاریخی معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور تزویراتی تعلقات کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان کی نو منتخب وزیراعظم سنائے تاکائچی سے ٹوکیو میں ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماؤں نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد نایاب معدنیات کی سپلائی چین کو مضبوط بنانا اور عالمی منڈی میں استحکام لانا ہے۔
ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو جاپان کی جانب سے فوجی ساز و سامان کے آرڈر موصول ہو چکے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور جاپان کے درمیان ہونے والا نیا تجارتی معاہدہ “انتہائی منصفانہ اور متوازن” ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے اس دورۂ جاپان میں تجارت، سیکیورٹی، جہاز سازی، سویا بین اور گیس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکا اور جاپان نہ صرف اقتصادی طور پر بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی ایک ساتھ کام کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے درمیان
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔