Express News:
2026-07-24@09:32:03 GMT

پاک انڈونیشیا معاہدے اور تعاون

اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT

 پاکستان اور انڈونیشیا ایک ایسے یقین کی دنیا ہے جن میں ایمان رچا بسا ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے باشندے مختلف زبان، رسم و رواج اور ثقافت رکھنے کے باوجود اسلام کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ اب دونوں ملکوں کی حکومتوں نے 7 عہد ناموں پر دستخط کر کے دنیا کو باورکرا دیا ہے کہ اب ایک مشترکہ راستہ طے کریں گے۔ وہ تجارت کریں گے جو حلال اصولوں پر مبنی ہو اور غربت کو ختم کر کے کامیابی بانٹے۔ وہ دن دور نہیں جب پاکستانی اور انڈونیشین پوری انسانیت کے لیے علم کی روشنی لے کر آگے بڑھیں گے۔ دونوں ملکوں نے علم کا رشتہ مضبوط کرنے کے لیے تعلیمی معاہدے پر بھی دستخط کر دیے ہیں، اگرچہ دونوں ممالک کا فاصلہ ایک دوسرے سے دور ہے لیکن یہ دوری اسلامی رشتے میں بندھ کر انتہائی قریب تر ہو جاتی ہے۔

پاکستان جوکہ اپنی بڑھتی ہوئی آبادی اور مسلم اکثریت کے باعث عالمی مسلم منظر نامے میں نہایت ہی اہم مقام رکھتا ہے جسے اب امریکا نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ اسی طرح انڈونیشیا بھی ایک بہت بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے اور دنیا میں پام آئل کا بہت بڑا برآمدی ملک بھی ہے۔ دونوں ملکوں میں اسلام یہاں کی مسلم اکثریتی معاشرے کا مذہبی اور ثقافتی اساس ہے۔ اور عالمی مسلم منظر نامے میں دونوں ملکوں کے درمیان جو سات ایم او یوز پر دستخط ہوئے ہیں یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ دونوں ملکوں کا اتحاد، یگانگت، بھائی چارگی نہ صرف علاقائی سطح پر اہم ہے بلکہ عالمی مسلم امت کی ڈوبتی امیدوں اور ابھرتی توقعات کا محور بھی ہے۔ دونوں ملکوں نے اب یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو، اسلامی ممالک کتنے دور اور نزدیک کیوں نہ ہوں بالآخر ایک مسلم براعظم کی زنجیر کا حصہ بن جاتے ہیں۔

گزشتہ دنوں انڈونیشیا کے صدر نے پاکستان کا نہ صرف دورہ کیا بلکہ کئی ایم او یوز پر دستخط بھی کیے۔ اسلام آباد کے یخ موسم نے دستخطوں والے 7 معاہدے کو ایسے دیکھا جیسے دو ناخدا اپنے جہازوں کی سمت درست کر رہے ہوں۔ ایک طرف بحیرہ عرب کی لہروں کی خوشبو دوسری طرف ’’جاوا‘‘ کے ساحلوں کی ٹھنڈک اور درمیان میں وہ 7 دستاویزات جو آنے والے مستقبل کی تجارت، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کے علاوہ علم کے راستے طے کرنے والی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم اور اسکالرشپ کا معاہدہ ایسے لگا جیسے دو ڈین اپنے ڈپارٹمنٹ کے دروازے ایک دوسرے کے شاگردوں کے لیے کھول رہے ہوں۔ یوں کتابیں سفر کریں گی، علم سانس لے گا اور اسٹوڈنٹس استفادہ حاصل کریں گے اور نسلیں بدلیں گی، اہم معاہدہ یہ بھی تھا کہ اعلیٰ تعلیم اور انڈونیشین اسکالرشپ پروگرام۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی و تعاون، حلال تجارت اور سرٹیفکیٹس، صحت کے شعبے میں پاکستان سے ڈاکٹروں اور میڈیکل ماہرین کو انڈونیشیا بھیجنے اور تعلیم و تربیت میں تعاون کی پیش کش کی گئی ہے۔ صحت کے میدان میں تعاون یوں تھا جیسے ایک ڈاکٹر اپنے اوزار دوسرے کو دے کر کہے ’’ لو جہاں زندگی مشکل ہو، وہاں استعمال کرنا‘‘ پاکستان کے ڈاکٹر اور ماہرین انڈونیشیا کے اسپتالوں میں اور مشترکہ علاج کا خواب۔ یہ وہ فاصلہ ہے جو زبانوں سے نہیں طے ہوتا، اچھی نیتوں سے طے ہوتا ہے۔ حلال سرٹیفکیٹس کی شراکت ایک ایسا عہد ہے جسے قافلے میں موجود ہر مسافر کو خالص پانی دینا، دنیا کی مارکیٹیں کھلیں گی، اعتماد بڑھے گا اور حلال مصنوعات کی مارکیٹ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دے گی۔

دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ تجارت میں توازن لانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی طرف سے زرعی اور مصنوعی برآمدات کو بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔ فی الحال بڑی تعداد میں پام آئل کی درآمد کے باعث پاکستان زیادہ مالیت کی درآمد کرنا ہے اور انڈونیشیا کے لیے پاکستانی برآمدی مالیت کم ہے جسے فوری طور پر اس معاہدے کی رو سے بڑھایا جا سکتا ہے۔

ان ساتوں معاہدوں کا مقصد 75 سالہ دوستی کے اس سفرکو مزید آسان بنانے کے لیے انڈونیشیا کے صدر کی آمد اس بات کا اعلان ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو صرف اہمیت کی سطح پر نہیں، بلکہ عملی معاشی اور سماجی سطح پر گہرا اور دیرپا بنانا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ دنیا کے نقشوں پر لکیر کھینچنے والے لوگ کم ہوتے ہیں، لیکن وہ قومیں وہ ممالک جو ایک دوسرے کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں وہ نقشہ نہیں بدلتی وہ تاریخ بدل دیتی ہیں۔

یہ 7 دستخط آنے والے برسوں کا وہ باب ہیں جسے پڑھ کر دنیا کہے گی، یہ دو قومیں نہیں تھیں، یہ دو خواب تھے جو ایک جیسے آسمان کے نیچے لکھے گئے تھے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جو تحریروں کی صورت میں کتابوں میں لکھی گئی ہے وہ کتابیں بند نہ کر دی جائیں، ہر دم کھلی رہیں تاکہ عملدرآمد کے راستے باآسانی طے کیے جا سکیں۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان