پاکستان اور نڈونیشیانے 7معاہدوں پر دستخط کردیے
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں)پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے 7 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے۔معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر پرابوووسوبیا نتو موجود تھے۔پاکستان اورانڈونیشیا کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ کر لیا گیا، پاکستانی طلبا کی انڈونیشیا میں اعلیٰ تعلیم کیلیے انڈونیشین ایڈ اسکالر شپ پروگرام پر دستخط کیے گئے۔دونوں ملکوں میں چھوٹے اوردرمیانے کاروبارکی ترقی کیلیے تعاون اور تاریخی دستاویزات اورریکارڈ محفوظ بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔اس کے علاوہ منشیات اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مفاہمتی یادداشت، حلال تجارت اورسرٹیفکیشن اور صحت کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا بھی تبادلہ کیا گیا۔بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشین صدر کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، صدر پرابوووسوبیا نتو انڈونیشیا کے مدبر رہنما ہیں، ان کیساتھ بات چیت انتہائی مثبت اور تعمیری رہی۔وزیراعظم نے کہا کہ باہمی تجارت میں توازن پر بات چیت کی گئی، پاکستانی ڈاکٹرز ، پروفیسرز اور ماہرین کو انڈونیشیا بھیجنے پر اتفاق ہوا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات کی تاریخ 75 سال پر مبنی ہے، انڈونیشیا کی عوام اور حکومت نے 1965 کی جنگ میں پاکستان کیساتھ اظہار یکجہتی کیا، فلسطین کے حوالے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں۔صدر انڈونیشیا پرابوو سوبیانتو نے شاندار میزبانی اور استقبال پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فضائی حدود میں جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی سلامی میرے لیے اعزاز ہے۔ ہم نے مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے یادداشتوں اور ایم او یوز کا تبادلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں، پاکستان کی جانب سے صحت کے شعبے میں تعاون کا خیر مقدم کرتے ہیں، پاکستان کیساتھ تعلیم، تجارت، زراعت، ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے، انہوں نے کہا کہ غزہ کے معاملے پر ہم نے مشترکہ موقف اپنایا ہے۔علاوہ ازیںصدرمملکت آصف علی زرداری نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کو نشان پاکستان سے نواز دیا اور دونوں رہنماؤں نے امن، استحکام اور خوش حالی کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق ایوان صدر میں خصوصی اعزازی تقریب منعقد ہوئی جہاں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کو نشان پاکستان عطا کیا گیا، تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور اعلیٰ عسکری قیادت نے شرکت کی۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور انڈونیشیا کے امن، استحکام اور خوش حالی کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، صدر پاکستان نے انڈونیشیا کے سوماترا کے سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، متاثرین کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔دونوں صدور نے بین المذاہب ہم آہنگی اور برداشت کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا، پاکستان اور انڈونیشیا نے مستقبل کی شراکت داری کو جامع ترقی کے اصولوں پر استوار کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔اس موقع پر دوطرفہ تجارت میں اضافے پر اظہار اطمینان اور تجارت میں توازن اور تنوع پر زور دیا گیا اور مشترکہ تجارتی کمیٹی کو کاروباری روابط بڑھانے کا مؤثر فورم قرار دیا گیا۔ اس موقع پر انڈونیشیا کے صدر کے اعزاز میں ایوان صدر میں پرتکلف عشائیہ دیا گیا۔دریں اثناء پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے جمہوریہ انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اطراف نے دونوں برادر ممالک کی مسلح افواج کے درمیان موجودہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔انڈونیشیا کے صدر نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا۔آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور فوجی تربیت، انسداد دہشت گردی اور استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں دفاعی تعاون کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان قرضوں سے مکمل نجات حاصل کرکے معاشی طور پر خود کفیل ہوگا۔آئی ایم ایف کی جانب سے حکومتی معاشی اصلاحات اور اقدامات کے مؤثر نفاذ کی وجہ سے جاری پروگرام کے تحت مالی اجراء پر وزیرِ اعظم نے حکومتی معاشی ٹیم کی کوششوں کی پذیرائی کی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اصلاحاتی ایجنڈے کے نفاذ اور پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی معاونت کا کلیدی کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان میں معاشی اصلاحات و اقدامات کے مؤثر نفاذ پر اظہار اطمینان معاشی ٹیم بالخصوص وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور انکی ٹیم کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آئی ایم کی جانب سے حالیہ مالی اجراء اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان معاشی استحکام اور ترقی کیلیے ضروری اقدامات پر عملدرآمد کر رہا ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ ڈیفالٹ کے دہانے سے ملک کو استحکام اور ترقی کی سمت میں گامزن کرنا ایک کٹھن مرحلہ تھا جس کیلیے سب نے مل کر قربانی دی۔ سیاسی جماعتوں نے سیاست کی قربانی دے کر اور قوم نے معاشی مشکلات برداشت کرکے نا ممکن کو ممکن کر دکھایا۔انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور ڈیجیٹائیزیشن کامیاب کیس اسٹڈی کے طور پر دنیا بھر میں مثال بن گئی ہے۔ پاکستان کی معاشی ترقی کا خواب ان شاء اللہ جلد شرمندہ تعبیر ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان اور انڈونیشیا کے انڈونیشیا کے صدر پرابوو وزیراعظم شہباز شریف پرابوو سوبیانتو انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان استحکام اور پاکستان کی کی جانب سے کے درمیان میں تعاون ترقی کی چیف ا ف کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔