امریکا کے 2لڑاکا طیارے بحیرئہ جنوبی چین میں گر کر تباہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-06-14
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) بحیرہ جنوبی چین میں امریکی بحریہ کے 2طیارے مختلف حادثوں میں تباہ ہوگئے۔ دونوں طیارے تربیتی مشقوں کے دوران طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس نیمٹز کے آپریشنز کا حصہ تھے، جو امریکی بحری بیڑے کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہازوں میں سے ایک ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پہلا حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک ایف 18سپر ہورنیٹ لڑاکا طیارہ معمول کی مشقوں کے دوران سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔ چند گھنٹے بعد اسی بحری جہاز کے فضائی ونگ سے وابستہ ایک ایم ایچ 60سی ہاک ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوگیا،جس کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔ امریکی بحریہ نے تصدیق کی ہے کہ دونوں واقعات میں تمام ہوابازوں اور عملے کے ارکان کو بحری بیڑے کی امدادی ٹیموں نے بحفاظت نکال لیا، اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بیان میں بتایا گیا کہ دونوں حادثات کی وجوہات جاننے کے لیے فوری تحقیقات شروع کر دی گئی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ فنی خرابی کا نتیجہ تھے یا علاقے کے موسمی حالات اس کے ذمہ دار تھے۔ اس علاقے میں حالیہ عرصے میں عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔بحیرہ جنوبی چین دنیا کے سب سے حساس سمندری خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں چین اور امریکا سمیت کئی ممالک بحری اثر و رسوخ اور کنٹرول کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔