روسی فوجی طیارے کے فضا میں ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے؛ تمام افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
روسی فوج کا ایک مال بردار طیارہ AN-22 ماسکو کے مشرق میں واقع ایوانوو ریجن میں گر کر تباہ ہوگیا جس میں 7 افراد موجود تھے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ طیارے نے مرمت کے بعد تجرباتی پرواز کے لیے اُڑان بھری تھی۔
روس کے معروف اخبار کومرسانت نے دعویٰ کیا کہ دورانِ پرواز ہی طیارہ فضا میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا جس کا ملبہ ایک قریبی آبی ذخیرے میں گرا۔
وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ طیارے میں عملے کے 5 افراد اور 2 مسافر بھی سوار تھے جب کہ طیارہ ایک غیر آباد علاقے میں گرا۔
روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے میں موجود تمام سات افراد ہلاک ہوگئے تاہم جہاں طیارہ گرا وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
تاحال طیارہ حادثے کی وجہ کا بھی تعین نہیں کیا جا سکا ہے تاہم ابتدائی اطلاعات میں طیارے کے فنی خرابی کا شکار ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
روسی حکام نے کہا کہ حادثے کا یوکرین جنگ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی کسی تخریب کاری کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
روس کی سرکاری انویسٹی گیٹو کمیٹی نے بھی طیارے میں موجود تمام افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی۔
یاد رہے کہ AN-22 طیارہ ایک قدیم فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ ہے اور یہ 50 سال سے زیادہ عرصے سے سروس میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔