روسی فوج کا ایک مال بردار طیارہ AN-22 ماسکو کے مشرق میں واقع ایوانوو ریجن میں گر کر تباہ ہوگیا جس میں 7 افراد موجود تھے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ طیارے نے مرمت کے بعد تجرباتی پرواز کے لیے اُڑان بھری تھی۔

روس کے معروف اخبار کومرسانت نے دعویٰ کیا کہ دورانِ پرواز ہی طیارہ فضا میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا جس کا ملبہ ایک قریبی آبی ذخیرے میں گرا۔

وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ طیارے میں عملے کے 5 افراد اور 2 مسافر بھی سوار تھے جب کہ طیارہ ایک غیر آباد علاقے میں گرا۔

روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے میں موجود تمام سات افراد ہلاک ہوگئے تاہم جہاں طیارہ گرا وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تاحال طیارہ حادثے کی وجہ کا بھی تعین نہیں کیا جا سکا ہے تاہم  ابتدائی اطلاعات میں طیارے کے فنی خرابی کا شکار ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

روسی حکام نے کہا کہ حادثے کا یوکرین جنگ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی کسی تخریب کاری کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

روس کی سرکاری انویسٹی گیٹو کمیٹی نے بھی طیارے میں موجود تمام افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی۔

یاد رہے کہ AN-22 طیارہ ایک قدیم فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ ہے اور یہ 50 سال سے زیادہ عرصے سے سروس میں ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش