اطالوی کمپنی بنگلہ دیش ایئر فورس کو یورو فائٹر ٹائفون ملٹی رول لڑاکا طیارے فراہم کرے گی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
بنگلہ دیش ایئر فورس (بی اے ایف) نے اپنے جنگی بیڑے کی جدید کاری کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اطالوی دفاعی و ایرو اسپیس کمپنی لیو نارڈو ایس پی اے کے ساتھ لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نیول اکیڈمی میں شاندار ونٹر پریزیڈنشل پریڈ، پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو باضابطہ کمیشن دیا گیا
دستخط کی یہ تقریب ڈھاکا میں ایئر فورس ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوئی جس میں سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان اور بنگلہ دیش میں اٹلی کے سفیر انتونیو الیساندرو نے شرکت کی۔
اس موقع پر بنگلہ دیش کی آرمڈ فورسز ڈویژن کے اعلیٰ حکام اور اطالوی نمائندے بھی موجود تھے۔
لیٹر آف انٹینٹ کے تحت توقع کی جا رہی ہے کہ اطالوی کمپنی بنگلہ دیش ایئر فورس کو یورو فائٹر ٹائفون ملٹی رول لڑاکا طیارے فراہم کرے گی۔
مزید پڑھیے : چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش محمد یونس کی اسپتال جاکر خالدہ ضیا کی عیادت
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اقدام بی اے ایف کے طویل المدتی جدید کاری پروگرام میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا جس کا مقصد ایئر فورس کو جدید ترین، فرنٹ لائن ملٹی رول پلیٹ فارمز سے لیس کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش ملٹری اکیڈمی میں صدر کی کمانڈنگ پریڈ، 204 کیڈٹس نے کمیشن حاصل کیا
علاقائی دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ یورو فائٹر ٹائفون کی ممکنہ خریداری بنگلہ دیش کی فضائی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گی اور جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اطالوی کمپنی لیونارڈو بنگلہ دیش ایئر فورس بنگلہ دیش کو لڑاکا طیاروں کی فراہمی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ایئر فورس بنگلہ دیش ایئر فورس
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔